بنگلا دیش کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں پاکستان فٹبال ٹیم کے سابق کپتان اور پاک فوج کے ریٹائرڈ میجر حفیظ الدین احمد کو بنگلا دیش کی حکومت میں وزیر برائے امورِ آزادی جنگ مقرر کر دیا گیا ہے۔ وہ ضلع بھولا کے حلقے سے چھٹی مرتبہ منتخب ہو کر پارلیمان پہنچے ہیں اور اس سے قبل بھی وزارت کا قلمدان سنبھال چکے ہیں، جبکہ یہ تیسری مرتبہ ہے کہ وہ وفاقی کابینہ کا حصہ بنے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم طارق رحمان کے ہمراہ اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔
حفیظ الدین احمد حکمران جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے مرکزی رہنما ہیں اور ملکی سیاست میں ایک فعال اور بااثر آواز سمجھے جاتے ہیں۔ وزارتِ امورِ آزادی جنگ بنگلا دیش میں خصوصی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ وزارت 1971 کی جنگِ آزادی سے متعلق امور، سابق مجاہدین کی فلاح اور تاریخی معاملات کی نگرانی کرتی ہے۔
حفیظ الدین احمد کا کیریئر غیر معمولی تنوع کا حامل رہا ہے۔ وہ قیامِ بنگلا دیش سے قبل بھولا منتقل ہو گئے تھے، تاہم انہوں نے 1968 سے تین برس تک پاکستان کی قومی فٹبال ٹیم کی قیادت کی اور بین الاقوامی سطح پر ٹیم کی نمائندگی کی۔ کھیل کے میدان میں ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں 2004 میں FIFA کی جانب سے انہیں عالمی فٹبال کا اعلیٰ ترین اعزاز “فیفا آرڈر آف میرٹ” عطا کیا گیا، جو غیر معمولی خدمات انجام دینے والی شخصیات کو دیا جاتا ہے۔
تعلیمی اور عسکری پس منظر کے اعتبار سے بھی ان کا سفر قابلِ ذکر ہے۔ وہ ڈھاکا یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم رہے اور بعد ازاں پاکستان ملٹری اکیڈمی کے 16ویں وار کورس سے وابستہ رہے، جہاں وہ اپنے کورس کے بٹالین سینئر انڈر آفیسر بھی رہے۔ پاک فوج میں خدمات انجام دیتے ہوئے ان کے کئی ہم عصر افسران لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے تک پہنچے۔ دسمبر 2024 میں نجی دورے پر پاکستان آمد کے دوران انہوں نے اپنے سابق کورس میٹس سے ملاقاتیں کیں، جبکہ لاہور اور اسلام آباد میں ان کے اعزاز میں خصوصی تقاریب کا انعقاد بھی کیا گیا۔
یوں حفیظ الدین احمد کی شخصیت کھیل، عسکری خدمات اور سیاست کے امتزاج کی ایک منفرد مثال بن چکی ہےایک ایسا سفر جو فٹبال کے میدان سے شروع ہو کر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچا اور اب بنگلا دیش کی کابینہ میں ایک بار پھر اہم ذمہ داری کی صورت میں جاری ہے۔
