امریکا اور بھارت کے درمیان توانائی اور تجارت کے شعبے میں جاری سفارتی سرگرمیوں نے ایک نئی جہت اختیار کر لی ہے۔ حالیہ پیش رفت کے مطابق واشنگٹن انتظامیہ بھارت کو وینزویلا سے خام تیل کی فراہمی کے امکانات پر سنجیدہ مذاکرات کر رہی ہے، تاکہ نئی دہلی اپنی تیل کی ضروریات کے لیے روس پر انحصار کم کر سکے اور درآمدی ذرائع میں تنوع لا سکے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بھارت دنیا کا تیسرا بڑا خام تیل درآمد کرنے والا اور استعمال کرنے والا ملک ہے، اس لیے اس کی توانائی پالیسی میں تبدیلی عالمی منڈی پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہے۔ امریکا نے واضح کیا ہے کہ بھارتی مصنوعات پر عائد ٹیرف میں کمی کو روسی تیل کی خریداری سے مشروط کیا گیا تھا۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ روسی توانائی کی برآمدات ماسکو کی جنگی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل فراہم کرتی ہیں، اس لیے وہ چاہتا ہے کہ شراکت دار ممالک اس انحصار کو کم کریں۔
اسی تناظر میں امریکا نے بھارت کو متبادل سپلائی کے طور پر وینزویلا کا تیل خریدنے کی تجویز دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی محکمہ توانائی اور بھارت کی وزارتِ توانائی کے درمیان اس معاملے پر رابطے جاری ہیں اور جلد کسی پیش رفت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ گفتگو اس وقت سامنے آئی جب نئی دہلی میں ایک اعلیٰ سطحی تقریب کے موقع پر دونوں ممالک کے نمائندے موجود تھے، جہاں بھارت نے ہائی ٹیک مصنوعات کے لیے سلیکون سپلائی چین کے قیام سے متعلق امریکی قیادت میں شروع کیے گئے اقدام میں شمولیت اختیار کی۔
دوسری جانب تجارتی محاذ پر بھی اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک عبوری تجارتی معاہدے کے تحت بھارتی مصنوعات پر ٹیرف کم کر کے 18 فیصد کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ اس سے قبل 25 فیصد کا اضافی جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جسے بعد میں اس وقت واپس لیا گیا جب بھارت نے روسی خام تیل کی خریداری بند کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ بتایا جا رہا ہے کہ حتمی تجارتی معاہدہ بھی جلد طے پا سکتا ہے، تاہم چند تکنیکی نکات پر مزید مشاورت درکار ہے۔
بھارت کے وزیرِ تجارت پیوش گوئل کے مطابق عبوری تجارتی معاہدہ اپریل سے نافذ العمل ہوگا اور امریکا رواں ماہ باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر کے ٹیرف میں کمی کا اعلان کر سکتا ہے۔ اس پیش رفت کو دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات میں اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
روس اور یوکرین تنازع کے بعد امریکا اور اس کے اتحادیوں نے روسی توانائی کے شعبے پر سخت پابندیاں عائد کی تھیں۔ ان پابندیوں کے نتیجے میں بھارت نے روسی سمندری راستے سے آنے والے خام تیل کی بڑی مقدار رعایتی نرخوں پر خریدنا شروع کر دی تھی، جس پر مغربی ممالک نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ تاہم اب امریکا چاہتا ہے کہ بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے دیگر ذرائع اختیار کرے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مقصد کسی ایک ملک کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ روسی تیل کی عالمی خریداری کو محدود کرنا ہے۔ ان کے مطابق بھارت نے پہلے ہی اپنے درآمدی ذرائع میں تنوع لانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں اور اس حوالے سے باہمی مفاہمت موجود ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا نے وینزویلا کے تیل کو عالمی منڈی میں فروخت کرنے کے لیے معروف تجارتی کمپنیوں کو لائسنس جاری کیے ہیں۔ حالیہ پیش رفت میں وینزویلا کی قیادت کے ساتھ ایک سپلائی معاہدہ بھی طے پایا، جس کے بعد لاکھوں بیرل خام تیل کی مارکیٹنگ اور فروخت کا راستہ ہموار ہوا۔ اسی تناظر میں بھارتی سرکاری اور نجی آئل ریفائنریز نے وینزویلا سے تیل خریدنے کے آرڈرز بھی دیے ہیں۔ ان میں انڈین آئل کارپوریشن، ہندوستان پیٹرولیم، بھارت پیٹرولیم، ریلائنس انڈسٹریز اور ایچ پی سی ایل مِٹل انرجی شامل ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ انتظام مستقل بنیادوں پر آگے بڑھتا ہے تو نہ صرف بھارت کی توانائی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلی آئے گی بلکہ عالمی خام تیل کی تجارت کے توازن پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔ امریکا کی کوشش ہے کہ اپنے تجارتی اور تزویراتی مفادات کو یکجا کرتے ہوئے وہ توانائی کے میدان میں بھی اتحادی ممالک کے ساتھ قریبی تعاون کو فروغ دے۔
