مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اسرائیل اور ایران کے درمیان بیانات کی جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں اسرائیلی سیاسی اور عسکری حلقوں سے سامنے آنے والے اشارے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ خطے کی صورتحال نہایت نازک ہو چکی ہے اور کسی بھی لمحے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ اسی پس منظر میں اسرائیلی وزیر اعظم Benjamin Netanyahu نے سخت لہجے میں ایران کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اسرائیل کو نشانہ بنایا گیا تو اس کا جواب غیر معمولی شدت کا ہوگا۔
ایک فوجی تقریب سے ٹیلی ویژن خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کی قیادت نے کسی قسم کی جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اسرائیل ایسا ردعمل دے گا جو ناقابلِ تصور ہوگا۔ ان کا اشارہ براہِ راست ایران کے سپریم لیڈر Ali Khamenei کی جانب تھا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکہ کے صدر Donald Trump نے تہران کے خلاف ممکنہ عسکری اقدام کے بارے میں ایک بار پھر سخت موقف اختیار کرنے کا عندیہ دیا۔ امریکی قیادت کے اس لب و لہجے نے خطے میں قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دی ہے کہ آنے والے دنوں میں کوئی بڑا فیصلہ سامنے آسکتا ہے۔ اگرچہ واشنگٹن کی جانب سے حتمی اعلان نہیں کیا گیا، تاہم سفارتی اور دفاعی حلقوں میں سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ، بالخصوص Yedioth Ahronoth، نے رپورٹ کیا ہے کہ پہلے جہاں ممکنہ کارروائی کو ہفتوں یا مہینے بھر کی بات قرار دیا جا رہا تھا، اب اندازے اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ فیصلہ کن پیش رفت چند دنوں میں ہو سکتی ہے۔ اس تبدیلی کو مبصرین زمینی اور سفارتی حالات میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
مزید برآں، دو اسرائیلی ذرائع نے امریکی نشریاتی ادارے CNN کو بتایا کہ اسرائیل نے اپنی فوجی تیاریوں کی رفتار بڑھا دی ہے اور الرٹ لیول میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق دفاعی نظام کو مزید مستحکم کیا جا رہا ہے اور مختلف محاذوں پر ہنگامی منصوبہ بندی جاری ہے۔ ان ذرائع میں سے ایک کا تعلق عسکری شعبے سے بتایا جاتا ہے، جس نے عندیہ دیا کہ ممکنہ کارروائی میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ہم آہنگی شامل ہو سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق اسرائیلی قیادت کئی ہفتوں سے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں پر تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہے۔ اگرچہ مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد کچھ مثبت پیش رفت کا ذکر کیا گیا، تاہم اسرائیل نے اسے کافی نہیں سمجھا اور اپنی دفاعی و آپریشنل تیاریوں میں مزید تیزی پیدا کر دی ہے۔ مبصرین کے مطابق اسرائیل کو خدشہ ہے کہ سفارتی عمل ایران کو وقت فراہم کر سکتا ہے، جس سے وہ اپنی عسکری صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنا لے۔
ایک ذریعے کے مطابق اگر امریکی صدر کی منظوری حاصل ہو جاتی ہے تو ممکنہ عسکری کارروائی ماضی کے محدود جھڑپوں سے کہیں زیادہ وسیع ہو سکتی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں نے اس امکان کا ذکر کیا ہے کہ کارروائی مشترکہ نوعیت کی ہو سکتی ہے، جس میں دونوں ممالک کی فضائی اور دفاعی قوتیں ہم آہنگ انداز میں حصہ لیں۔ اس تناظر میں جون میں پیش آنے والی مبینہ “12 روزہ جنگ” سے بھی زیادہ بڑے پیمانے کی کارروائی کا تصور پیش کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی عسکری و سیاسی اداروں میں بھی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ کی خارجہ امور اور دفاعی کمیٹی نے ایک خفیہ اجلاس منعقد کیا، جس میں ہوم فرنٹ کمانڈ کے سربراہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں داخلی سلامتی، شہری دفاعی تیاریوں اور ہنگامی ردعمل کے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کے چیئرمین نے اس موقع پر اعتراف کیا کہ ملک کو ایران کے ساتھ کشیدگی کے باعث مشکل حالات کا سامنا ہے، تاہم حکومت اور عوام ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ Amos Yadlin نے بھی ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں اس بات کا اظہار کیا کہ حالات پہلے سے زیادہ نازک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ خطہ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں غلط اندازے یا محدود کارروائی بھی وسیع تنازعے کو جنم دے سکتی ہے۔ ان کے مطابق آنے والے دن غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں، اور شہریوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
علاقائی سطح پر اس کشیدگی کے ممکنہ اثرات بھی زیر بحث ہیں۔ اگر امریکہ اور اسرائیل مشترکہ طور پر ایران کے خلاف کوئی بڑا قدم اٹھاتے ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور سفارتی تعلقات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ خلیجی ممالک، یورپی طاقتیں اور ایشیائی ریاستیں اس صورتحال کو گہری نظر سے دیکھ رہی ہیں، کیونکہ کسی بھی بڑے تصادم سے تیل کی رسد، تجارتی راستے اور عالمی منڈیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال بیانات اور عملی تیاریوں کے درمیان توازن کا امتحان ہے۔ اگرچہ سخت الفاظ میں دھمکیاں دی جا رہی ہیں، تاہم سفارتی چینلز بھی مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس نوعیت کے بیانات کا مقصد حریف کو دباؤ میں لانا اور مذاکرات کی میز پر بہتر شرائط حاصل کرنا ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، کچھ مبصرین اسے حقیقی عسکری تیاریوں کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔
خطہ ایک غیر یقینی دوراہے پر کھڑا ہے۔ اسرائیل نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی حملے کی صورت میں بھرپور جواب دے گا، جبکہ ایران بھی ماضی میں اپنے دفاعی عزم کا اظہار کر چکا ہے۔ امریکہ کی پالیسی اور اس کی ممکنہ شمولیت اس پورے منظرنامے کا سب سے اہم عنصر بن چکی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا سفارتی کوششیں غالب آتی ہیں یا عسکری تصادم کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ فی الحال، تمام فریقین کی نظریں حالات کے اگلے موڑ پر مرکوز ہیں، جو خطے کی تاریخ میں ایک اہم باب ثابت ہو سکتا ہے۔
