خیبر پختونخوا حکومت نے دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کناروں پر جاری غیر قانونی کان کنی اور سونا نکالنے پر 60 روز کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ پابندی صوبے کے ضلع صوابی، نوشہرہ، کوہاٹ اور کرک سمیت دیگر ملحقہ علاقوں میں نافذ کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم ماحولیاتی تحفظ اور دریاؤں کے پانی کی آلودگی کو روکنے کے لیے ضروری تھا۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق دریاؤں کے کناروں پر غیر قانونی کان کنی سے پانی آلودہ ہو رہا تھا اور ماحولیاتی نظام شدید نقصان کا شکار ہو رہا تھا۔ زمین کی کٹائی اور دریا کے کناروں کی بے قابو کھدائی سے نہ صرف جنگلی حیات متاثر ہو رہی تھی بلکہ مقامی کمیونٹی کے لیے پینے کے صاف پانی اور زراعت کے وسائل بھی خطرے میں آ گئے تھے۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق غیر قانونی کان کنی دریاؤں کی قدرتی بہاؤ کی رفتار اور مٹی کی سطح کو بھی متاثر کرتی ہے، جس سے سیلاب اور زمین کھسکنے کے خدشات میں اضافہ ہوتا ہے۔
محکمہ داخلہ کے جاری کردہ حکمنامے میں ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو مکمل اختیار دیا گیا ہے کہ وہ قانون کے مطابق کارروائی کریں۔ اس میں خلاف ورزی کرنے والوں کی مشینری، گاڑیاں اور دیگر آلات ضبط کرنا شامل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کا سدِباب ممکن ہو سکے۔
حکام نے واضح کیا کہ یہ اقدام نہ صرف دریاؤں کی بحالی اور ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے ہے بلکہ مقامی کمیونٹیز کی زندگی اور وسائل کے تحفظ کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ ماہرین نے اس پابندی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریاؤں کے کنارے غیر قانونی کان کنی روکنے سے نہ صرف پانی صاف ہوگا بلکہ زمین کے کٹاؤ اور ماحولیاتی توازن میں بہتری آئے گی۔
خیبر پختونخوا حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بھی اس مہم میں تعاون کریں اور غیر قانونی کان کنی کے بارے میں متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ 60 روز کے دوران غیر قانونی کان کنی کے تمام مقامات کی مکمل نگرانی کی جائے گی اور پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی تاکہ دریاؤں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
یہ اقدام صوبے میں ماحولیاتی تحفظ اور دریاؤں کی حفاظت کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف موجودہ ماحولیاتی خطرات کم ہوں گے بلکہ مستقبل میں قدرتی وسائل کی بقا اور مقامی کمیونٹی کے مفادات بھی محفوظ رہیں گے۔
