افریقہ کے مشرقی حصے، بالخصوص ہارن آف افریقہ کے خطے میں، سکیورٹی ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ Somalia تین دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد اپنی فضائی جنگی صلاحیت کو دوبارہ فعال بنانے کی جانب سنجیدہ پیش رفت کر رہا ہے۔ مرکزی حکومت کے 1991 میں انہدام کے بعد سے ملک کی فضائی طاقت عملاً غیر فعال رہی، جس کے باعث موغادیشو کو فضائی نگرانی اور عسکری کارروائیوں کے لیے بیرونی شراکت داروں پر انحصار کرنا پڑا۔ اب صورتحال بدلتی دکھائی دے رہی ہے، اور حکومت ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہی ہے جو اس کے عسکری خدوخال کو بنیادی طور پر تبدیل کر سکتا ہے۔
اس کوشش کا مرکزی نکتہ پاکستان سے 24 تک JF-17 Thunder Block III لڑاکا طیاروں کی ممکنہ خریداری ہے۔ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ 1991 کے بعد سے صومالیہ کی سب سے بڑی دفاعی سرمایہ کاری ہوگی۔ حکام اس اقدام کو محض اسلحہ کی خریداری نہیں بلکہ خودمختاری کی بحالی کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
فروری 2026 میں اس پیش رفت کو اس وقت نمایاں رفتار ملی جب صومالی فضائیہ کے کمانڈر موہامود شیخ علی اعلیٰ سطحی مشاورت کے لیے Islamabad پہنچے۔ اس دورے نے واضح کیا کہ صومالی قیادت فضائی جنگی صلاحیت کی بحالی کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ کئی دہائیوں تک موثر لڑاکا طیاروں کی عدم موجودگی نے ملک کی فضائی حدود کو عملاً بیرونی تعاون کا محتاج بنائے رکھا، جس سے علاقائی خودمختاری اور دہشت گردی کے خلاف آزادانہ کارروائیوں کی صلاحیت محدود رہی۔
صومالی دفاعی حکام کے مطابق قومی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول ریاستی اقتدار کی بحالی سے جڑا ہوا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جو ریاست داخلی استحکام اور سیاسی یکجہتی چاہتی ہے، اسے اپنی فضاؤں پر بھی اختیار حاصل ہونا چاہیے۔ ہارن آف افریقہ جیسے خطے میں، جہاں فضائی برتری تجارتی راہداریوں، سمندری سلامتی اور انسدادِ بغاوت آپریشنز پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے، وہاں فضائی طاقت کی اہمیت محض علامتی نہیں بلکہ اسٹریٹجک ہے۔
جے ایف-17 تھنڈر بلاک تھری کو ایک موزوں انتخاب اس لیے سمجھا جا رہا ہے کہ یہ صلاحیت اور لاگت کے درمیان متوازن امتزاج پیش کرتا ہے۔ پاکستانی دفاعی ماہرین کے مطابق مغربی لڑاکا طیارے تکنیکی طور پر جدید ضرور ہیں، مگر ان کی قیمت جے ایف-17 کے اندازاً 30 سے 40 ملین ڈالر فی یونٹ کے مقابلے میں تین گنا تک زیادہ ہو سکتی ہے۔ ایسے میں ایک ایسا ملک جو ابھی ادارہ جاتی بحالی کے مرحلے میں ہو اور مالی وسائل محدود ہوں، اس کے لیے لاگت کی موثریت فیصلہ کن عنصر بن جاتی ہے۔
مزید برآں، جے ایف-17 پروگرام عام طور پر ایک جامع پیکیج کے ساتھ آتا ہے جس میں پائلٹس کی تربیت، دیکھ بھال کی معاونت، اسلحہ انضمام میں لچک اور لاجسٹک سپورٹ شامل ہوتی ہے۔ خریدار ممالک اکثر اسے اس لیے بھی ترجیح دیتے ہیں کہ اس کے ساتھ مغربی معاہدوں جیسی سخت سیاسی شرائط وابستہ نہیں ہوتیں۔ دفاعی پالیسی میں خودمختاری کے خواہاں ممالک کے لیے یہ پہلو خاص اہمیت رکھتا ہے۔
اگر یہ معاہدہ مکمل ہوتا ہے تو اس کی مجموعی مالیت تقریباً 900 ملین ڈالر، یعنی لگ بھگ 251 ارب پاکستانی روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ اس حجم کی سرمایہ کاری صومالیہ کو اپنے طویل ساحلی علاقے — جو بحرِ ہند کے ساتھ پھیلا ہوا ہے — کی نگرانی، اہم سمندری راستوں کے تحفظ اور دور دراز علاقوں میں سرگرم شدت پسند گروہوں کے خلاف فوری ردعمل کی صلاحیت فراہم کر سکتی ہے۔
یہ پیش رفت محض عسکری سازوسامان تک محدود نہیں۔ مقامی فضائی طاقت کی مضبوطی صومالیہ کے امریکہ اور ترکی جیسے ممالک پر انحصار کو کم کر سکتی ہے، جنہوں نے حالیہ برسوں میں فضائی معاونت فراہم کی ہے۔ اگرچہ ان شراکت داریوں نے سکیورٹی میں بہتری لانے میں کردار ادا کیا، مگر اب صومالی پالیسی ساز آزادانہ آپریشنل کنٹرول کو ترجیح دے رہے ہیں۔ متنازع یا سیاسی طور پر حساس فضائی حدود میں خودمختار فیصلے کرنے کی صلاحیت اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
ہارن آف افریقہ میں فضائی کنٹرول علاقائی تجارت، بحری قزاقی کے انسداد اور سرحد پار سکیورٹی حرکیات پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ بہتر فضائی صلاحیت نہ صرف داخلی سلامتی کو مضبوط کرے گی بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ بالخصوص ایسے علاقوں میں جہاں سیاسی حیثیت پیچیدہ ہے، فضائی نگرانی علامتی اور عملی دونوں حوالوں سے اہمیت رکھتی ہے۔
البتہ ایک فعال فضائیہ کی بحالی صرف طیارے خریدنے سے ممکن نہیں۔ ایئر بیس انفراسٹرکچر کی بہتری، رن ویز کی بحالی، تربیتی نظام کی تشکیل اور تکنیکی دیکھ بھال کے مستقل ڈھانچے کی ضرورت ہوگی۔ جدید لڑاکا طیاروں کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے منظم منصوبہ بندی اور پائیدار سپورٹ ناگزیر ہے۔ یوں یہ خریداری دراصل ایک وسیع تر دفاعی تعمیرِ نو کی ابتدا ہوگی۔
پاکستان کے لیے بھی یہ ممکنہ معاہدہ اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس سے عالمی دفاعی منڈی میں اس کی موجودگی مزید مستحکم ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے ممالک میں جو مہنگے مغربی نظاموں کے متبادل تلاش کر رہے ہیں۔ افریقی خطے میں دفاعی تعاون کا فروغ اسلام آباد کی سفارتی رسائی کو بھی وسعت دے سکتا ہے۔
تاہم سب سے زیادہ اہمیت صومالیہ کے لیے ہے۔ یہ اقدام اس کی ریاستی بحالی، قومی شناخت اور علاقائی سالمیت سے جڑا ہوا ہے۔ جدید دور میں کسی ریاست کے لیے اپنی فضائی حدود کی نگرانی اور دفاع کی صلاحیت محض عسکری معاملہ نہیں بلکہ خودمختاری کی بنیاد تصور کی جاتی ہے۔
معاہدہ حتمی شکل اختیار کرتا ہے یا نہیں، یہ آنے والا وقت بتائے گا، لیکن سمت واضح ہے۔ صومالیہ بیرونی انحصار سے نکل کر اپنی فضاؤں پر دوبارہ اختیار حاصل کرنے کے لیے پُرعزم دکھائی دیتا ہے۔ اگر یہ منصوبہ پایۂ تکمیل تک پہنچتا ہے تو یہ صرف ایک دفاعی سودا نہیں ہوگا بلکہ ایک اعلان ہوگا کہ ملک اپنی سلامتی کی سمت خود متعین کرنے کے لیے تیار ہے — اپنی سرزمین سے لے کر اپنے وسیع بحری افق تک۔
