لاہور کے علاقے چوہنگ میں پیش آنے والا ایک ہولناک واقعہ معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ بن گیا ہے، جہاں مبینہ طور پر نوکری کا جھانسا دے کر ایک خاتون کو اغوا کیا گیا، اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں اس کا گردہ بھی نکال لیا گیا۔ واقعے نے نہ صرف شہر بلکہ صوبے بھر میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزمان نے خاتون کو ملازمت کا لالچ دے کر اپنے جال میں پھنسایا اور پھر اسے زبردستی راولپنڈی منتقل کر دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون کو ایک کوٹھی میں قید رکھا گیا جہاں اسے مبینہ طور پر متعدد افراد نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ کئی روز تک قید اور تشدد کے بعد جب خاتون کی طبیعت بگڑی تو اسے طبی معائنے کے لیے لے جایا گیا، جہاں انکشاف ہوا کہ اس کا بایاں گردہ موجود نہیں۔
اس افسوسناک انکشاف نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے اور انسانی اعضاء کی غیر قانونی خرید و فروخت کے شبہات بھی جنم لے رہے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور سے فوری اور تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی ہے کہ اس گھناؤنے جرم میں ملوث تمام ملزمان کو بلا تاخیر گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
حنا پرویز بٹ کا کہنا ہے کہ خواتین کی عزت و حرمت پر حملہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور حکومت کی جانب سے خواتین کے خلاف جرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ متاثرہ خاتون کو مکمل قانونی معاونت، بہترین طبی سہولیات اور نفسیاتی سپورٹ فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اس صدمے سے نکل سکے۔
سماجی حلقوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی اس واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ نہ صرف ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے بلکہ انسانی اعضاء کی غیر قانونی پیوندکاری اور اسمگلنگ میں ملوث نیٹ ورکس کے خلاف بھی بھرپور کریک ڈاؤن کیا جائے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس امر کی یاد دہانی ہے کہ خواتین کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ریاست اور معاشرے دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انصاف کی بروقت فراہمی ہی متاثرہ خاتون اور اس جیسے دیگر متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھ سکتی ہے۔
