بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو آنکھ کے علاج کے فالو اپ کے لیے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے Pakistan Institute of Medical Sciences (پمز) منتقل کیا گیا، جہاں انہیں اینٹی وی ای جی ایف انٹرا وٹرئیل انجکشن کی دوسری ڈوز دی گئی۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کے مطابق 24 فروری کو بانی پی ٹی آئی کو سخت سیکیورٹی انتظامات کے تحت اسپتال لایا گیا۔ انجکشن دینے سے قبل ان کا مکمل طبی معائنہ کیا گیا تاکہ کسی بھی ممکنہ پیچیدگی سے بچا جا سکے۔
ڈاکٹرز کے مطابق پروسیجر سے پہلے کارڈیالوجسٹ کنسلٹنٹ نے ایکو کارڈیوگرافی اور ای سی جی سمیت دل کے ضروری ٹیسٹ کیے، جن کے نتائج تسلی بخش اور نارمل آئے۔ طبی حکام کا کہنا ہے کہ دورانِ علاج، قیامِ اسپتال اور پروسیجر کے بعد بھی عمران خان کے تمام وائٹل سائنز مستحکم رہے۔ کنسلٹنٹ فزیشن نے انہیں مجموعی طور پر طبی لحاظ سے مستحکم قرار دیا۔
آنکھوں کے اس خصوصی علاج کے لیے پمز اور Shifa International Hospital کے کنسلٹنٹ اوفتھلمولوجسٹ اور کنسلٹنٹ وائٹریو ریٹینل سرجن کی مشترکہ نگرانی حاصل رہی۔ ماہرین کے مطابق یہ انجکشن آنکھ کی مخصوص بیماریوں میں بینائی کو محفوظ رکھنے اور مزید بگاڑ سے بچانے کے لیے دیا جاتا ہے۔
پروسیجر کو ڈے کیئر سرجری کے طور پر انجام دیا گیا، یعنی مریض کو طویل داخلے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ اس سے قبل اسپیشلسٹس کے ایک بورڈ نے بانی پی ٹی آئی کا تفصیلی معائنہ کیا اور علاج کے اگلے مرحلے کی منظوری دی۔
اسپتال اعلامیے کے مطابق انجکشن کی کامیاب ڈوز کے بعد عمران خان کو ضروری احتیاطی ہدایات، فالو اپ شیڈول، ادویات کے نسخے اور طبی دستاویزات فراہم کر دی گئیں، جس کے بعد انہیں ڈسچارج کر دیا گیا۔
طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ معائنے میں انجکشن کے اثرات اور بینائی کی بہتری کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ ڈاکٹرز کی ہدایات پر مکمل عمل درآمد کو صحت یابی کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے۔
