پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو ایک متنازع منصوبے، یعنی ’’عمران خان رہائی فورس‘‘ قائم کرنے کے اقدام سے روکنے کے لیے براہِ راست مداخلت کی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب وزیر اعلیٰ نے جیل میں قید پارٹی کے بانی عمران خان کی رہائی کے لیے ایک مخصوص فورس تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی نے نہ صرف براہِ راست بلکہ سینئر پارٹی رہنماؤں کے ذریعے بھی وزیراعلیٰ کو واضح پیغام دیا کہ کسی بھی ایسے گروپ کا قیام جسے ’’فورس‘‘ کا نام دیا جائے، آئینی اور قانونی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے خبردار کیا کہ اگر کسی سیاسی مقصد کے تحت ارکان سے حلف لیا جائے یا تنظیمی ڈھانچے کو نیم عسکری انداز دیا جائے تو اسے غیر آئینی اور غیر قانونی سمجھا جا سکتا ہے، حتیٰ کہ ایسے اقدام کو عسکریت پسندی کے زمرے میں بھی دیکھا جا سکتا ہے، جو پارٹی اور صوبائی حکومت دونوں کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملے کی حساسیت کے پیش نظر بیرسٹر گوہر نے اپوزیشن اتحاد میں شامل اہم رہنماؤں سے بھی رابطے کیے۔ ان میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمودخان اچکزئی اور مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصرعباس شامل ہیں۔ رابطوں کا مقصد اس اقدام کے خلاف وسیع تر سیاسی ہم آہنگی پیدا کرنا اور کسی ممکنہ آئینی بحران سے بچنا بتایا جا رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق کسی بھی سیاسی جماعت کی جانب سے ’’فورس‘‘ کے نام سے علیحدہ ڈھانچہ قائم کرنے کا اعلان ریاستی اداروں اور قانونی حلقوں میں تشویش پیدا کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف سیاسی کشیدگی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ قانونی چارہ جوئی کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔
تاحال وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم پارٹی کے اندر جاری مشاورت اس بات کی نشاندہی کر رہی ہے کہ قیادت اس معاملے کو انتہائی احتیاط سے آگے بڑھانا چاہتی ہے تاکہ کسی بھی غیر متوقع قانونی یا سیاسی بحران سے بچا جا سکے۔
