اسلام آباد:سپریم کورٹ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی اپیل خارج کرتے ہوئےفیڈرل سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھا اور واضح قرار دیا ہے کہ معطلی ملازمت سے برطرفی یا سروس کے خاتمے کے مترادف نہیں ہوتی۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ معطل ملازم قانونی طور پر اپنے عہدے پر برقرار رہتا ہے، چاہے وہ اس دوران ڈیوٹی انجام نہ دے رہا ہو، اور جب تک ملازمت کا معاہدہ برقرار ہے اس کی تنخواہ اور دیگر مراعات بھی جاری رہنی چاہییں۔ عدالت نے قرار دیا کہ قانونی اجازت کے بغیر تنخواہ روکنا معاہدے کی خلاف ورزی ہے جبکہ معطلی کے دوران ادا کی گئی رقم کی ریکوری بھی غیر قانونی تصور ہوگی۔
فیصلے میں اسلامی اصولِ انصاف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ مزدور کو اس کا حق اس کا کام مکمل ہونے سے پہلے ادا کیا جانا چاہیے۔
یہ کیس ایف بی آر کے ملازم ارشد حسین سے متعلق تھا جنہیں میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کی بنیاد پر سروس کے لیے نااہل قرار دے کر جبری ریٹائر کیا گیا تھا۔ بعد ازاں فیڈرل بورڈ آف ریونیونے معطلی کے دوران ادا کی گئی تنخواہ اور مراعات واپس لینے کی کوشش کی جسے ملازم نے چیلنج کیا۔
وفاقی سروس ٹربیونل نے ارشد حسین کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے ریکوری کو غیر قانونی قرار دیا تھا، جس کے خلاف ایف بی آر نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تاہم عدالت عظمیٰ نے ٹربیونل کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اپیل مسترد کر دی۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ سرکاری ملازمین کے حقوق کے تحفظ اور انتظامی اختیارات کے درست استعمال کے حوالے سے ایک اہم نظیر کی حیثیت رکھتا ہے۔
