واشنگٹن: امریکی حکام نے ایک حیران کن انکشاف کرتے ہوئے چھ سال پرانے چینی زیرِ زمین جوہری تجربے کے راز فاش کیے، جسے اب تک خفیہ رکھا گیا تھا۔ اس انکشاف نے نہ صرف عالمی سلامتی کے حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے بلکہ جوہری ہتھیاروں کے عالمی توازن کے حوالے سے نئے سوالات بھی پیدا کر دیے ہیں۔
امریکی وزارتِ خارجہ کے دفتر برائے ہتھیاروں کی نگرانی، تصدیق اور پابندی کے معاون وزیر کرسٹوفر یاو نے اقوامِ متحدہ کی ایک معاون کمیٹی کے اجلاس میں بتایا کہ چین نے اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخائر میں بڑے پیمانے پر، جان بوجھ کر اور بغیر کسی پابندی کے اضافہ کیا، حالانکہ اس نے اس کے برعکس یقین دہانیاں کرائی تھیں۔ یاو نے کہا کہ چین کی شفافیت کی کمی اور "نقطۂ اختتام” یا حتمی اہداف کے بارے میں معلومات نہ ہونا عالمی جوہری توازن کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، اور امکان ہے کہ بیجنگ اگلے چار سے پانچ سال کے دوران جوہری توازن حاصل کر سکتا ہے۔
یاو نے 22 جون 2020 کو چین کے مغرب میں زیرِ زمین لوب نور سائٹ پر ہونے والے دھماکے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اسے زلزلے کے طور پر ریکارڈ کیا گیا جس کی شدت 2.75 ریکٹر اسکیل تھی۔ یہ معلومات قازقستان میں قائم بین الاقوامی نگرانی اسٹیشن سے حاصل کی گئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخی زلزلوں اور دھماکوں کے موازنہ سے اندازہ لگایا گیا کہ یہ ایک منفرد، منصوبہ بند اور غیر معمولی جوہری دھماکہ تھا۔
امریکی اہلکار نے دیگر ممالک پر زور دیا کہ وہ چین اور روس پر دباؤ ڈالیں تاکہ جوہری ہتھیاروں کے انخلا اور ذخائر کی کمی کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں۔ یاو نے نیو اسٹارٹ معاہدے کی کمزوریوں کی طرف بھی اشارہ کیا، خاص طور پر روس کے غیر اسٹریٹجک جوہری ہتھیاروں پر قابو پانے میں ناکامی اور چین کی تیز رفتاری سے بڑھتی ہوئی جوہری ذخائر کی نگرانی میں محدودیت۔
اس انکشاف کے جواب میں چین کے سفیر نے پیر کو اجلاس میں کہا کہ امریکہ کے الزامات قطعی بے بنیاد ہیں اور چین کی جوہری پالیسی کی مسلسل غلط تشریح کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے دیگر ممالک کو بدنام کرنے کے ذریعے اپنے جوہری وعدوں سے بچنے کی کوشش عالمی ساکھ کے لیے نقصان دہ ہے۔
رائٹرز کے مطابق، امریکہ اور چین منگل کو ایک ممکنہ کثیرالجہتی معاہدے پر بات چیت کریں گے تاکہ جوہری ہتھیاروں کی کمی پر اتفاق کیا جا سکے، جبکہ امریکہ نے روس کے ساتھ بھی جنیوا میں مذاکرات کیے اور عالمی سطح پر نئے وسیع دائرے کے معاہدے کی ضرورت پر زور دیا ہے، خاص طور پر اس کے بعد کہ نیو اسٹارٹ معاہدے کی مدت ختم ہو گئی ہے
