پاک افغان سرحد پر کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے جہاں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کی متعدد سرحدی پوسٹوں پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی افغان طالبان رجیم کی جانب سے مبینہ بلااشتعال فائرنگ اور جارحیت کے جواب میں کی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرم سیکٹر کے قریب ہونے والی جھڑپوں کے دوران پاکستانی فورسز نے نہایت پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کی پیش قدمی ناکام بنا دی۔ جوابی کارروائی کے نتیجے میں افغان طالبان کے کئی ٹھکانے تباہ کر دیے گئے جبکہ متعدد جنگجو مارے گئے۔
مصدقہ اطلاعات کے مطابق اب تک تقریباً 44 افغان طالبان جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ کئی دیگر زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔ مزید کارروائیوں کے دوران کم از کم 8 جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا۔
قومی پرچم کی سربلندی
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی جوانوں نے افغان طالبان کی زیر استعمال متعدد پوسٹوں پر قبضہ کر کے وہاں قومی پرچم لہرا دیا۔ ایک جوان نے جوشیلے انداز میں کہاہم دشمن کو بھرپور جواب دے کر دکھائیں گے کہ وہ کس سے ٹکرایا ہے۔
فورسز کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خودمختاری اور سرحدی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
آپریشن “غضب للحق” کا آغاز
پاکستان نے افغان طالبان رجیم کی کارروائیوں کے ردعمل میں باضابطہ طور پر آپریشن “غضب للحق” شروع کر دیا ہے۔ اس آپریشن کا مقصد سرحدی علاقوں میں امن و استحکام بحال کرنا اور مستقبل میں کسی بھی جارحیت کا مؤثر سدباب کرنا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران جدید ہتھیاروں اور انٹیلی جنس معلومات کا مؤثر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے باعث دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
خطے کی صورتحال اور سیکیورٹی چیلنجزپر
تجزیہ کاروں کے مطابق پاک افغان سرحد گزشتہ چند برسوں سے سیکیورٹی چیلنجز کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ سرحدی علاقوں میں دہشتگرد عناصر کی موجودگی اور سرحد پار سے حملوں کے الزامات دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ کا سبب بنتے رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
