ورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پاک افغان سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کا آغاز افغانستان کی جانب سے کیا گیا ہے تاہم اس کا انجام پاکستان کرے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغانستان نے ایک بار پھر پاکستان پر حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں خطے کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور کسی بھی قسم کی جارحیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
فیصل کریم کنڈی نے امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ اب پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہا ہے، اس لیے عالمی طاقتوں کو اس صورتحال پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغانستان سے دراندازی اور دہشت گردی کے شواہد عالمی فورمز پر پیش کر دیے ہیں اور عالمی برادری کو حقائق سے آگاہ کیا جا چکا ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے واضح کیا کہ اگر افغان طالبان اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے میں ناکام رہتے ہیں تو پاکستان خود دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی جب افغانستان کی جانب سے جارحیت کی گئی تو اسے منہ کی کھانی پڑی، اور پاکستان اپنی سلامتی اور خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق گورنر کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں اور سرحدی علاقوں میں کشیدگی میں اضافہ خطے کے امن و استحکام پر گہرے اثرات مرتب کرسکتاہے
