پاک فضائیہ نے پاک افغان سرحد پر افغان طالبان رجیم کی بلااشتعال جارحیت کے جواب میں افغانستان کے اندر انتہائی مؤثر اور ہدف پر مبنی فضائی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، جن کے دوران دشمن کو بھاری جانی و عسکری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ نے جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ننگرہار میں موجود ایک بڑا ایمونیشن ڈیپو مکمل طور پر تباہ کر دیا، جہاں بھاری مقدار میں اسلحہ اور بارودی مواد ذخیرہ کیا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اہداف کی درست نشاندہی کے بعد حملے کیے گئے اور مزید کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔
سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ پاک فضائیہ نے کابل، قندھار اور پکتیا میں موجود اہم فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔ کابل میں فضائی حملوں کے دوران دو بریگیڈ ہیڈکوارٹرز مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے، جس سے افغان طالبان کی کمانڈ اینڈ کنٹرول صلاحیت کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
ذرائع کے مطابق قندھار میں ایک کور ہیڈکوارٹر اور ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو کامیاب فضائی حملے میں نیست و نابود کر دیا گیا، جبکہ اسی علاقے میں واقع ایمونیشن ڈیپو اور لاجسٹک بیس بھی مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ پکتیا میں بھی ایک اہم کور ہیڈکوارٹر کو فضائی کارروائی میں نشانہ بنا کر ختم کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ پاک افغان سرحد پر افغان طالبان رجیم کی جانب سے مسلسل بلااشتعال فائرنگ اور دہشت گردانہ کارروائیوں کے خلاف پاکستان نے آپریشن “غضب للحق” کا آغاز کر دیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس آپریشن کے تحت پاکستانی سکیورٹی فورسز کی بھرپور جوابی کارروائی سے افغان طالبان کے متعدد ٹھکانے تباہ ہو چکے ہیں جبکہ شدت پسند عناصر میدان چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ کرم سیکٹر کے قریب افغان طالبان کے کئی ٹھکانے کامیابی سے تباہ کیے گئے، جہاں کارروائی کے دوران مزید 8 طالبان جنگجو ہلاک کر دیے گئے۔ اب تک موصول ہونے والی مصدقہ اطلاعات کے مطابق مختلف کارروائیوں میں تقریباً 44 افغان طالبان ہلاک ہو چکے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری، سلامتی اور عوام کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا، اور دشمن کی کسی بھی جارحیت کا جواب فیصلہ کن، بھرپور اور بروقت دیا جائے گا۔
