نئی دہلی: بھارت کی سیاست میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب دہلی کی عدالت نے سابق وزیراعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروندکجریوال کو بدعنوانی کے مقدمے سے باعزت بری کرنے کا حکم سنا دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد الزامات ثابت کرنے کے لیے ناکافی تھے، جس کے بعد کیجریوال سمیت دیگر 21 افراد کو بھی بری کر دیا گیا۔
یاد رہے کہ اروند کیجریوال کو مارچ 2024 میں گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد یہ مقدمہ ملکی سیاست کا مرکزی موضوع بن گیا تھا۔ طویل عدالتی کارروائی کے بعد آنے والے اس فیصلے نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
فیصلہ سنائے جانے کے بعد رہنما عام آدمی پارٹیاروند کیجریوال نے کہا، سچ کی جیت ہوئی ہے، ہمیں انصاف پر پورا یقین تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا اور جھوٹے مقدمات کے ذریعے دبانے کی کوشش کی گئی۔
دوسری جانب کیجریوال نے بھارتی وزیراعظم نریندرامودیاور وزیر داخلہ امیت شاہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ عام آدمی پارٹی کو کمزور کرنے اور ختم کرنے کی منظم سیاسی کوشش کی گئی، تاہم عدالت کے فیصلے نے تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے کے بعد بھارت کی سیاسی فضا مزید گرم ہونے کا امکان ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اسے انصاف کی فتح قرار دے رہی ہیں جبکہ حکمران جماعت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
عدالت کے اس فیصلے کو نہ صرف اروند کیجریوال بلکہ عام آدمی پارٹی کی بڑی قانونی اور سیاسی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں ملکی سیاست پر نمایاں طور پر دکھائی دے سکتے ہیں۔
