روس نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حالیہ حملوں کو واضح طور پر جارحیت قرار دیا ہے اور ان اقدامات کو عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں روسی مندوب نے اپنے موقف کے دوران کہا کہ ایران کے خلاف کی گئی فوجی کارروائیاں غیر قانونی اور غیر منطقی ہیں، اور ان سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ روسی مندوب نے زور دے کر کہا کہ ایران کے خلاف الزامات کی بنیاد ناقص اور جھوٹ پر مبنی ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) نے کبھی یہ تصدیق نہیں کی کہ ایران ایٹمی ہتھیار تیار کر رہا ہے۔
مندوب نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں عالمی طاقتوں نے عراق اور دیگر ممالک پر بھی ایسے غیر مستند الزامات عائد کیے تھے، جن کے نتیجے میں بے گناہ شہریوں کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے خاص طور پر ایران کے شہریوں پر حملوں کی مذمت نہ کرنے والے یورپی ممالک کی خاموشی پر تنقید کی اور کہا کہ دنیا کو گمراہ کرنے کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔ روسی نمائندے نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بند کرنے کی کوششیں عالمی سطح پر امن کو نقصان پہنچائیں گی اور خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔
اجلاس کے دوران فرانس نے بھی ایران کے معاملے پر اپنا مؤقف پیش کیا، تاہم روس کے موقف سے کافی مختلف۔ فرانس نے زور دیا کہ ایران کو اپنی عالمی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی اور خطے کے دیگر ممالک پر حملوں کی سخت مذمت کی جانی چاہیے۔ فرانس کے نمائندے نے کہا کہ ایران کی بیلسٹک میزائل پروگرام سمیت دیگر عسکری سرگرمیاں خطے میں عدم استحکام پیدا کر رہی ہیں اور اس پر عالمی برادری کو فوری دھیان دینا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف اقوامِ متحدہ کے تمام ارکان کو اس معاملے میں تعاون کرنا چاہیے تاکہ خطے میں امن قائم رکھا جا سکے۔
اسی دوران چینی مندوب نے بھی اجلاس میں حصہ لیا اور زور دیا کہ کسی بھی فریق کو شہریوں پر حملوں سے گریز کرنا چاہیے۔ چینی مندوب نے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی فوری ختم کی جائے اور تمام فریقین کے درمیان مذاکرات کو ترجیح دی جائے تاکہ مسائل کا پرامن حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عسکری کارروائیوں سے صرف انسانی جانوں کو نقصان پہنچتا ہے اور خطے کی اقتصادی و سماجی ترقی متاثر ہوتی ہے، اس لیے بین الاقوامی قوانین کے تحت ہر ملک کو ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
روس نے اجلاس میں یہ بھی واضح کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ حملے نہ صرف ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ خطے کے تمام ممالک کے لیے ایک انتباہ بھی ہیں کہ غیر منطقی اقدامات عالمی امن اور استحکام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ روسی مندوب نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف پیش کیے گئے الزامات میں کوئی سچائی نہیں ہے اور ان کے پیچھے صرف سیاسی مقاصد کارفرما ہیں۔ روس کے موقف کے مطابق، ایران خطے میں کسی جارحیت کا آغاز نہیں کرے گا، بلکہ اس کا بنیادی مقصد اپنی سرحدوں اور شہریوں کی حفاظت ہے۔
اجلاس میں روس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی برادری کو ایران کے موقف کو سمجھنا چاہیے اور اس کے حق میں متوازن فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ روسی مندوب نے کہا کہ ایران کے خلاف جھوٹے الزامات کو قبول کرنا خطے میں مزید خونریزی اور انسانی جانوں کے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کو فروغ دے اور اس کے خلاف فوجی اقدامات کی مخالفت کرے۔
اجلاس کے دوران روس نے واضح کیا کہ عالمی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی روشنی میں کسی بھی ملک پر بلاجواز حملہ کرنا ناقابل قبول ہے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے ذمہ دار فریق قانونی و اخلاقی طور پر جوابدہ ہوں گے۔ روس نے یہ بھی کہا کہ خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے تمام ممالک کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور کسی بھی جارحانہ قدم سے گریز کرنا ہوگا۔
روس کے موقف کے بعد، فرانس اور چین کے نمائندوں نے بھی اپنی رائے رکھی، جس میں زور دیا گیا کہ خطے میں فوری مذاکرات اور سیاسی حل کے اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی جانوں کے نقصان اور اقتصادی و سماجی مسائل سے بچا جا سکے۔ فرانس نے ایران کی عالمی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی، جبکہ چین نے شہریوں کی حفاظت اور کشیدگی کے خاتمے پر زور دیا۔ روس، فرانس اور چین کے مشترکہ مؤقف کے مطابق، ایران کے ساتھ عسکری تنازعات کی بجائے سفارتی راہ اپنانا سب کے مفاد میں ہے۔
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے فیصلے نہ صرف غیر قانونی ہیں بلکہ اس سے عالمی امن و سلامتی متاثر ہوتی ہے۔ روس نے کہا کہ ایران نے خطے میں کسی جارحانہ کارروائی کی منصوبہ بندی نہیں کی، اور امریکہ و اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حالیہ حملے ایک خطرناک پیش رفت ہیں جو خطے کی صورت حال کو غیر مستحکم کر سکتی ہے۔
آخر میں روس نے یہ پیغام دیا کہ ایران کے معاملے میں غلط بیانی اور جھوٹے الزامات کو قبول نہیں کیا جائے گا، اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ کشیدگی کو بڑھانے والے اقدامات سے باز رہے۔ اجلاس میں شریک دیگر ممالک نے بھی زور دیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اور پرامن حل ہی واحد راستہ ہے، جس سے نہ صرف انسانی جانوں کی حفاظت ہو گی بلکہ خطے میں سیاسی، اقتصادی اور سماجی استحکام بھی قائم رہے گا۔
