قطری وزارت خارجہ نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے خصوصی بیان میں تصدیق کی ہے کہ قطری فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے ایرانی ڈرونز اور دیگر میزائل نما ہتھیاروں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا۔
وزارت کے مطابق یہ حملے قطر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کی کوشش تھے، جنہیں بروقت کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ
کارروائی نہ صرف قطر کی خودمختاری کے دفاع کے لیے ضروری تھی بلکہ شہری جانوں اور اہم قومی تنصیبات کے تحفظ کے لیے بھی ناگزیر اقدام تھا۔
قطری وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ روکے گئے حملوں کا ہدف شہری بنیادی ڈھانچہ تھا، جس میں بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی شامل ہے۔ دوحہ نے اپنے سخت ردعمل میں ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے کھلے عام حملوں کی قیمت چکانا ہو گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق قطر کا یہ بیان خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے اور اس سے سفارتی سطح پر مزید سخت مؤقف سامنے آ سکتا ہے۔
دوسری جانب قطری وزارت داخلہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی مشکوک یا نامعلوم شے کے قریب نہ جائیں اور نہ ہی اس سے چھیڑ چھاڑ کریں۔ وزارت نے ہدایت کی کہ ایسی کسی بھی چیز کی فوری اطلاع ہنگامی نمبر 999 پر دی جائے۔
وزارتِ داخلہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ ان ہدایات پر عمل درآمد سے عوامی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے اور متعلقہ اداروں کو بروقت کارروائی میں مدد ملتی ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ قطر کی جانب سے براہِ راست ایرانی ڈرونز کو مار گرانے کی تصدیق خطے میں طاقت کے توازن اور سکیورٹی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ خلیجی ریاستوں میں فضائی دفاعی نظام کی فعالیت اور فوری ردعمل نے ایک بڑے ممکنہ سانحے کو ٹال دیا، تاہم سفارتی سطح پر کشیدگی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی صورتحال میں یہ پیش رفت آنے والے دنوں میں اہم سیاسی اور سکیورٹی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
