بھارتی سیاست میں ایک بار پھر خارجہ پالیسی موضوعِ بحث بن گئی ہے۔ سونیا گاندھی نے موجودہ حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے ایران جیسے دیرینہ اتحادی کو نظر انداز کرکے اسرائیل کی حمایت میں اپنی سفارتی خودمختاری قربان کر دی ہے۔
یہ بیان ایک بھارتی جریدے میں شائع ان کے تفصیلی مضمون میں سامنے آیا، جس میں انہوں نے موجودہ خارجہ حکمتِ عملی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
سونیا گاندھی نے لکھا کہ بھارت تاریخی طور پر ایران اور اسرائیل کے درمیان نہایت محتاط اور متوازن تعلقات برقرار رکھتا آیا ہے، تاہم موجودہ وزیر اعظم نریندرمودی نے اس پالیسی کو "سیاسی نمائش” کی نذر کر دیا ہے۔ان کے مطابق نئی دہلی کی حالیہ پالیسی نے عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ کو متاثر کیا ہے اور ملک کو ایک جانب جھکاؤ رکھنے والا فریق بنا کر پیش کیا ہے۔
کانگریس رہنما کا کہنا تھا کہ جس طرزِ عمل کو حکومت سفارت کاری قرار دیتی ہے، وہ دراصل بحران کے نازک لمحات میں ذمہ داری سے کنارہ کشی ہے۔ انہوں نے اسے "اخلاقی بزدلی” سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عالمی فورمز پر بھارت کی پوزیشن کمزور دکھائی دیتی ہے۔
سونیا گاندھی نے اپنے مضمون میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ ایران کے سپریم لیڈر Ali Khamenei کے قتل پر بھارت کا مدھم ردعمل اس بات کا اشارہ ہے کہ نئی دہلی اپنی آزاد خارجہ پالیسی کے دعوے سے پیچھے ہٹ چکی ہے۔
ان کے مطابق بھارت کی غیر وابستہ اور خودمختار خارجہ پالیسی طویل عرصے تک اس کی عالمی شناخت کا اہم ستون رہی ہے، جسے موجودہ حکومت نے کمزور کیا ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان نہ صرف داخلی سیاست میں ہلچل پیدا کرے گا بلکہ خارجہ پالیسی پر بھی نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔
واضح رہے کہ خطے میں جاری کشیدگی اور ایران۔اسرائیل تنازع کے تناظر میں جنوبی ایشیا کے ممالک کی پوزیشن بھی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ایسے میں بھارت کی خارجہ حکمت عملی پر اٹھنے والے سوالات سفارتی حلقوں میں خاصی اہمیت اختیار کر رہے ہیں۔
