نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سینیٹ اجلاس میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تفصیلی پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران جوہری مذاکرات میں مثبت پیشرفت کے دوران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر متفق ہو چکا تھا، اس کے باوجود اس پر حملہ کیا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران پر حملہ ہوا تو پاکستان نے 15 منٹ کے اندر کھل کر اس کی مذمت کی اور سفارتی سطح پر بھرپور آواز اٹھائی۔اسحاق ڈار کے مطابق امریکا ایران کے تمام ایٹمی پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتا تھا، تاہم پاکستان نے ایران کے جوہری توانائی کے پُرامن استعمال کے حق کی حمایت کی۔انہوں نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کامیابی سے جاری تھے جن میں عمان ثالثی کا کردار ادا کر رہا تھا، اور امید کی جا رہی تھی کہ مثبت پیشرفت ہوگی، لیکن اسی دوران ایران پر حملہ کر دیا گیا۔
وزیر خارجہ نے ایوان کو بتایا کہ پاکستان نے یہ یقین دہانی حاصل کی کہ سعودی عرب کی سرزمین ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے معاملے پر پاکستان کی پُرخلوص سفارتی کوششوں کو اندرونِ ملک غلط رنگ دینا مناسب نہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ جب پاکستان کے پاس اقوام متحدہ برائے سلامتی کونسل کی صدارت تھی تو امریکا اور ایران کے مسئلے پر کئی مباحثے کرائے گئے۔انہوں نے بتایا کہ 12 سال بعد سلامتی کونسل میں اتفاقِ رائے سے قرارداد منظور ہوئی اور پاکستان نے ایران پر حملے کی واضح مذمت کی۔ 28 فروری کو ہنگامی اجلاس بھی پاکستان کی کوششوں سے بلایا گیا۔
وزیر خارجہ نے انکشاف کیا کہ وہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ براہِ راست رابطے میں ہیں اور رابطے کے لیے باضابطہ چینلز کی ضرورت نہیں پڑتی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی پارلیمنٹ میں "تشکر پاکستان” کے نعرے لگے، جو پاکستان کے مؤقف کی عالمی سطح پر پذیرائی کا ثبوت ہے۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ایران نے امریکا کے اڈوں کو نشانہ بنانے کا مؤقف اختیار کیا، تاہم ہمیں اس تنازع میں نہیں پڑنا چاہیے۔ اگر خلیجی ممالک پر حملے نہ ہوتے تو ہم امریکا اور اسرائیل کے خلاف مزید ممالک کو ساتھ لے کر آواز بلند کرتے۔انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی امن و امان کمزور ہو رہا ہے اور حالیہ دنوں میں جو کچھ ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ پاکستان کی حکومت سفارتی حل کی کوششوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی اور خطے میں استحکام کے لیے فعال کردار ادا کرتی رہے گی۔
