مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی نے پانچویں روز کے بعد ایک نیا اور غیر متوقع رخ اختیار کر لیا، جب دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں شمار ہونے والا آبنائے ہرمز عملی طور پر مفلوج ہوتا دکھائی دیا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے عالمی توانائی کی رسد کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اور معمولی خلل بھی بین الاقوامی منڈیوں میں شدید ہلچل پیدا کرنے کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے۔
بحری نگرانی کرنے والے ادارے ایس اینڈ پی گلوبل کموڈیٹیز ایٹ سی کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق پیر کے روز صرف دو تیل اور کیمیکل بردار جہاز اس راستے سے گزر سکے، جبکہ ایک دن قبل یہ تعداد پانچ تھی۔ مزید برآں مجموعی طور پر صرف سات دیگر جہاز اس گزرگاہ سے گزرے، حالانکہ اتوار کے روز بیس جہازوں کی نقل و حرکت ریکارڈ کی گئی تھی۔ عام حالات میں تقریباً پچھتر جہاز روزانہ اس سمندری راستے کو استعمال کرتے ہیں، جن میں سے لگ بھگ ساٹھ تیل اور کیمیائی مادّے لے جانے والے جہاز ہوتے ہیں۔ یہ اعدادوشمار عالمی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ میں بھی نمایاں کیے گئے۔
توانائی کی عالمی طلب کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے فراہم ہوتا ہے، اس لیے بحری سرگرمیوں میں یہ اچانک کمی صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات براہِ راست عالمی معیشت تک پہنچے۔ خطرے کی بنیادی وجہ ایرانی افواج کی جانب سے قریبی پانیوں میں موجود جہازوں کے لیے سلامتی خدشات اور جنگی بیمہ تحفظ کی معطلی بتائی جا رہی ہے۔ کئی بیمہ کمپنیوں نے جنگی حالات کے پیش نظر کوریج عارضی طور پر روک دی، جس کے باعث جہاز مالکان نے اپنے بیڑے روکنا یا متبادل راستوں پر غور کرنا شروع کر دیا۔
اس صورتحال کے فوری اثرات عالمی تیل منڈی میں دیکھے گئے۔ بدھ کے روز خام تیل کی قیمتوں میں ایک ڈالر سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بین الاقوامی معیار کا برینٹ خام تیل 1.11 ڈالر اضافے کے بعد 82.53 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا، جو تقریباً 1.4 فیصد اضافہ بنتا ہے۔ اسی طرح امریکی معیار کا ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 79 سینٹ بڑھ کر 75.37 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ اتار چڑھاؤ اس سطح تک پہنچ چکا ہے جو کئی ماہ بعد دیکھنے میں آیا ہے۔
مالیاتی اور سلامتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تعطل طویل ہو گیا تو اس کے نتائج صرف ایندھن کی قیمتوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ نقل و حمل، خوراک اور صنعتی پیداوار سمیت متعدد شعبے متاثر ہو سکتے ہیں۔ نیویارک میں قائم تحقیقی ادارے دی سوفان سینٹر نے خبردار کیا ہے کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا تنازعے کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام اس بات کا اشارہ ہے کہ ایران اپنی جغرافیائی پوزیشن کو استعمال کرتے ہوئے عالمی اقتصادی دباؤ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ادھر امریکی قیادت نے بھی ردِعمل دیا ہے۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکی بحریہ تیل بردار جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے ان کے ساتھ چل سکتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ توانائی کی ترسیل کو یقینی بنانا عالمی استحکام کے لیے ناگزیر ہے، اور قیمتوں میں بے قابو اضافے کو روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ امریکی بین الاقوامی ترقیاتی مالیاتی ادارے کو ہدایت دی گئی کہ وہ سیاسی خطرات کے خلاف بیمہ سہولت فراہم کرے اور خلیجی تجارتی راستوں کے لیے مالی ضمانتوں کو فعال کرے۔
تاہم سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ آیا محض عسکری ہمراہی اور مالی یقین دہانی منڈی کا اعتماد بحال کرنے کے لیے کافی ہو گی؟ جہاز مالکان اور بحری تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جب تک زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوتے اور براہِ راست خطرات کم نہیں ہوتے، صرف بیانات یا حفاظتی اسکواڈ مکمل اطمینان فراہم نہیں کر سکتے۔ بیمہ لاگت میں اضافے کا بوجھ بھی بالآخر صارفین تک منتقل ہو سکتا ہے۔
عالمی سطح پر کئی ممالک نے متبادل توانائی کے ذرائع کی تلاش تیز کر دی ہے۔ بھارت اور انڈونیشیا نے اشارہ دیا ہے کہ وہ سپلائی کے دیگر راستے اختیار کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ ممکنہ قلت سے بچا جا سکے۔ چین میں کچھ ریفائنریز نے وقتی طور پر پیداوار کم کرنے یا مرمتی منصوبے آگے بڑھانے کا اعلان کیا ہے، جسے ماہرین محتاط حکمتِ عملی قرار دے رہے ہیں۔
ماہرینِ معیشت کے مطابق یہ بحران محض بحری گزرگاہ تک محدود نہیں بلکہ توانائی کی عالمی سیاست کا حصہ بن چکا ہے۔ اگر کشیدگی برقرار رہتی ہے تو اس سے عالمی مہنگائی میں اضافہ، زرِ مبادلہ کی منڈیوں میں دباؤ اور حصص بازاروں میں غیر یقینی کی فضا مزید گہری ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر وہ ممالک جو درآمدی تیل پر انحصار کرتے ہیں، ان کے لیے یہ صورتحال بجٹ خسارے اور مہنگائی کے نئے چیلنجز کھڑے کر سکتی ہے۔
دوسری جانب توانائی کے ماہرین اس نکتے پر بھی زور دے رہے ہیں کہ دنیا کو ایک ہی جغرافیائی راستے پر ضرورت سے زیادہ انحصار کم کرنا ہوگا۔ قابلِ تجدید توانائی، علاقائی پائپ لائنز، اور متنوع رسدی سلسلوں کی اہمیت اس بحران نے دوبارہ واضح کر دی ہے۔ اگرچہ فوری طور پر عسکری نگرانی اور سفارتی کوششیں کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہیں، لیکن طویل المدتی استحکام کے لیے ساختی تبدیلیاں ناگزیر دکھائی دیتی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کا یہ تنازعہ اب صرف سرحدی یا عسکری معاملہ نہیں رہا بلکہ عالمی اقتصادی نظام کے اعصاب کو چھو رہا ہے۔ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی غیر معمولی کمی نے دنیا کو یہ احساس دلا دیا ہے کہ توانائی کی رسد کے راستے کتنے نازک اور حساس ہیں، اور معمولی رکاوٹ بھی کس طرح بین الاقوامی منڈیوں کو ہلا سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ عسکری اقدامات، سفارتی مذاکرات اور مالی ضمانتیں مل کر اس بحران کو قابو میں لا پاتی ہیں یا نہیں، مگر فی الحال عالمی منڈیاں غیر یقینی کی کیفیت میں سانس لے رہی ہیں۔
