تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ پر سری لنکا کے قریب ایرانی جنگی جہاز کو نشانہ بنانے کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے اسے ایک “خوفناک اور گھناونا اقدام” قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ واشنگٹن کو اس کارروائی پر سخت پچھتانا پڑے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکہ نے ایرانی ساحل سے تقریباً دو ہزار میل دور بین الاقوامی پانیوں میں ایک سنگین حملہ کیا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی نیوی کا فرسٹ ریٹ فرگیٹ “دینا” بغیر کسی پیشگی اطلاع کے نشانہ بنایا گیا۔
عباس عراقچی کے مطابق اس جنگی جہاز پر بھارتی بحریہ کے اہلکاروں سمیت تقریباً 130 ملاح موجود تھے، جنہیں بین الاقوامی سمندری حدود میں اچانک حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے اس واقعے کو عالمی قوانین اور سمندری ضابطوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے پیغام میں امریکہ کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ میری بات یاد رکھیں، امریکہ کو اس اقدام پر شدید پچھتانا پڑے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ سری لنکا کے جنوبی ساحل کے قریب پیش آیا جہاں ایک امریکی آبدوز نے خلیج فارس سے ہزاروں میل دور ایرانی جنگی جہاز کو نشانہ بنایا۔ حملے کے بعد جہاز کے ڈوبنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم ہلاکتوں یا زخمیوں کے بارے میں فوری طور پر کوئی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب اس واقعے پر امریکہ کی جانب سے تاحال کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوا تو یہ واقعہ مشرقِ وسطیٰ اور بحرِ ہند کے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے اور عالمی سطح پر سفارتی بحران کو جنم دے سکتا ہے
