مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران العربیہ اور الحدث کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب پر کیے گئے متعدد ایرانی حملے عراق کی سرزمین سے لانچ کیے گئے۔ ذرائع کے مطابق مملکت کی سکیورٹی ادارے اس صورتحال کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے دفاعی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
سعودی عرب نے ریاض میں واقع امریکی سفارت خانے کو نشانہ بنانے والے ایرانی ڈرون حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ یہ بزدلانہ اور بلا جواز کارروائی بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
مملکت نے واضح کیا کہ سفارتی مشنز پر حملے سنہ 1949 کے جنیوا کنونشن اور سنہ 1961 کے ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ ان عالمی قوانین کے تحت مسلح تنازعات کے دوران بھی سفارتی عمارتوں اور وہاں تعینات عملے کو مکمل تحفظ اور استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔
ریاض اورالخرج کےقریب8 ڈرون تباہ کئےگئےہیں،سعودی وزارت دفاع نے بتایا کہ منگل کی علی الصبح فضائی دفاعی نظام نے ریاض اور الخرج کے قریب پرواز کرنے والے 8 ڈرون طیاروں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔
وزارت دفاع کے مطابق ان میں سے دو ڈرونز نے ریاض کے سفارتی علاقے میں واقع امریکی سفارت خانے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
سعودی فوج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ ڈرون حملے کے نتیجے میں سفارت خانے کی عمارت کو معمولی مادی نقصان پہنچا اور ایک محدود جگہ پر آگ بھی لگی جسے فوری طور پر بجھا دیا گیا۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
امریکی سفارت خانے کی شہریوں کوہدایات جاری کی گئی ہیں،واقعے کےفوراًبعد ریاض میں امریکی سفارت خانے نےاپنےشہریوں کےلیے سکیورٹی ایڈوائزری جاری کر دی۔ ہدایت میں کہا گیا ہے کہ امریکی شہری ریاض، جدہ اور مشرقی شہر ظہران میں اپنے گھروں تک محدود رہیں اور خطے میں موجود کسی بھی فوجی تنصیب یا حساس مقام کی طرف غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
کویت میں امریکی سفارت خانے پر بھی حملے کا دعویٰ سامناآیاہے،ادھر تین سفارت کاروں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ گزشتہ روز کویت میں قائم امریکی سفارت خانے کو بھی ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ تاہم اس حملے کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آحسکیں۔
ایران کی جوابی کارروائیاں اور خطے میں بڑھتی کشیدگی سےمعاملات مزیدبگاڑکی طرف جائیں گے،تجزیہ کاروں کے مطابق تہران کی جانب سے یہ حملےچند روز قبل شروع ہونے والی ان جوابی کارروائیوں کا حصہ ہیں جوخلیج میں موجود امریکی افواج اور ان کے اتحادیوں کےخلاف کی جارہی ہیں۔
ایران کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں ان امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کا ردعمل ہیں جن میں ایران کے مختلف صوبوں میں قائم فوجی ہیڈ کوارٹرز اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
اس دوران ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی بوچھاڑ سے خطے کے مختلف علاقوں میں بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، رہائشی عمارتوں، ہوٹلوں اور فوجی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ عسکری کشیدگی پورے خلیجی خطے کو ایک بڑے بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اگر حالات پر قابو نہ پایا گیا تو یہ تنازع وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
