مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے دوران ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ خلیج فارس کی اہم ترین گزرگاہ آبنائے ہرمز امریکا، اسرائیل اور یورپی ممالک کے جہازوں کے لیے بند کر دی گئی ہے۔
ایرانی سرکاری ریڈیو اور ٹی وی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا کہ یہ پابندی صرف امریکا، اسرائیل، یورپی ممالک اور ان کے مغربی اتحادیوں کے بحری جہازوں پر لاگو ہو گی۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر ان ممالک کا کوئی بھی جہاز آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی کوشش کرتا نظر آیا تو اسے فوری طور پر نشانہ بنایا جائے گا۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ جنگی حالات میں آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ایران کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔
میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہاہم اس وقت جنگی حالت میں ہیں، اس لیے آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے حوالے سے خصوصی اقدامات ضروری ہیں۔ یہ اقدامات نافذ ہو چکے ہیں اور ہم اپنے مخالف ممالک کے تجارتی اور جنگی جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیاں مکمل طور پر بند نہیں ہو جاتیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے پاسدارانِ انقلاب کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ خلیج کے شمالی حصے میں ایک امریکی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ لگ گئی۔
رپورٹس کے مطابق حملے کے بعد جہاز میں شدید آگ بھڑک اٹھی اور علاقے میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی، تاہم اس واقعے میں ہونے والے ممکنہ جانی یا مالی نقصانات کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
سری لنکا کے قریب ایرانی جنگی جہاز پر حملہ کھلی خلاف ورزی ہے
دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایک امریکی آبدوز نے سری لنکا کے جنوبی ساحل کے قریب ایک ایرانی جنگی جہاز (فرگیٹ) کو نشانہ بنایا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے امریکا پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہاامریکا نے ایران کے ساحل سے تقریباً دو ہزار میل دور سمندر میں ایک سنگین جرم کیا ہے۔ اس ایرانی فرگیٹ میں تقریباً 130 ملاح سوار تھے جنہیں بین الاقوامی پانیوں میں بغیر کسی پیشگی اطلاع کے نشانہ بنایا گیا۔
عباس عراقچی نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کو اس غیر معمولی حملے کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
ان کے الفاظ میں میری بات یاد رکھیں، امریکا کو اس اقدام پر شدید پچھتانا کرناپڑے گا۔
عالمی تجارت اور توانائی کو خطرات لاحق ہیں،ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی سمندری راستے سے گزرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران اپنے اعلان پر عمل درآمد کرتا ہے تو نہ صرف خلیجی خطہ بلکہ عالمی معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔

Add A Comment