مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے خلاف جاری جنگ نہ صرف خطے کی سکیورٹی صورتحال کو تبدیل کر رہی ہے بلکہ اس کے اثرات عالمی فوجی توازن پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کو روکنے کے لیے استعمال ہونے والے پیٹریاٹ دفاعی نظام کے انٹرسیپٹر میزائل تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، جس کے باعث ان ذخائر کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے جن پر یوکرین اپنے فضائی دفاع کے لیے انحصار کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے ابتدائی دنوں میں ہی اس صورتحال کا سب سے بڑا فائدہ روس کو پہنچ رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یوکرین پہلے ہی پیٹریاٹ میزائلوں کی کمی کا شکار تھا اور اب ان میزائلوں کا بڑا حصہ مشرقِ وسطیٰ میں استعمال ہو رہا ہے۔
اخبار کے مطابق امریکہ میں دفاعی سازوسامان کی پیداوار میں رکاوٹوں کی وجہ سے پہلے ہی پیٹریاٹ میزائلوں کی فراہمی محدود تھی۔ اس صورتحال نے نہ صرف واشنگٹن کے اپنے ذخائر کو کم کیا بلکہ یورپی اتحادیوں کو بھی اس سسٹم کے حصول کے لیے طویل انتظار کی فہرستوں میں شامل کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوکرینی فضائی دفاع میں پیدا ہونے والا خلا روس کے لیے ایک اہم موقع بن گیا ہے۔ روس اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور شہروں کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر بجلی کی بندش اور انفراسٹرکچر کوایران کےڈرون حملوں سےنقصان پہنچایاجارہاہے
امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین کے مطابق ایران نے جنگ کے آغاز سے اب تک 500 سے زائد بیلسٹک میزائل اور تقریباً 2000 ڈرونز داغے ہیں۔ ان حملوں کو روکنے کے لیے امریکہ اور اس کے خلیجی اتحادیوں نے سینکڑوں انٹرسیپٹر میزائل استعمال کیے۔
فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسی شدت کے حملے جاری رہے تو بعض خلیجی ممالک کے پاس صرف چند دنوں کے لیے ہی انٹرسیپٹر میزائل باقی رہ سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں امریکہ کو بحر ہند اور بحرالکاہل کے علاقوں میں موجود اپنے ذخائر منتقل کرنا پڑ سکتے ہیں، جس سے وہاں کی فوجی توازن پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی دفاعی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے 2025 کے دوران پیٹریاٹ میزائلوں کے جدید ترین ورژن PAC-3 کے صرف 600 میزائل تیار کیے تھے۔ ایک بیلسٹک میزائل کو تباہ کرنے کے لیے عام طور پر کم از کم دو انٹرسیپٹر میزائل استعمال کیے جاتے ہیں جبکہ بعض صورتوں میں تین یا اس سے زیادہ میزائل بھی داغنے پڑتے ہیں۔
ایک پیٹریاٹ میزائل کی تیاری میں کئی ماہ لگتے ہیں اور اس کی لاگت کئی ملین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ اس سسٹم کے مختلف پرزے امریکہ کے علاوہ سپین اور دیگر ممالک میں قائم فیکٹریوں میں تیار کیے جاتے ہیں۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ انٹرسیپٹر میزائل ان کے ملک کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے یورپی اتحادیوں سے رابطہ کیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث ان میزائلوں کی فراہمی متاثر تو نہیں ہوگی۔
یوکرینی فضائیہ کے نائب کمانڈر کرنل پاول یلیزاروف کے مطابق روسی بیلسٹک میزائل یوکرین کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں اور پیٹریاٹ سسٹم ہی ان کا مؤثر مقابلہ کر سکتا ہے۔ اندازوں کے مطابق روس اس وقت ہر ماہ تقریباً 80 بیلسٹک میزائل تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ یوکرین کو ان حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ماہانہ کم از کم 60 PAC-3 انٹرسیپٹر میزائل درکار ہوتے ہیں۔
فروری میں جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریس نے نیٹو ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ یوکرین کو اضافی پیٹریاٹ میزائل فراہم کریں۔ تاہم اب تک صرف جرمنی نے ہی اس حوالے سے میزائل دینے کا وعدہ کیا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اتحادی ممالک کے ذخائر بھی محدود ہو چکے ہیں۔
روسی ڈرونز کا خطرہ
رپورٹ کے مطابق روس روزانہ سینکڑوں شاہد خودکش ڈرونز بھی استعمال کر رہا ہے۔ یہ ڈرون اصل میں ایران میں تیار کیے گئے تھے اور 2023 میں تہران اور ماسکو کے درمیان ٹیکنالوجی کی منتقلی کے معاہدے کے بعد روس نے انہیں بڑی مقدار میں خود تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔
مستقبل کی پیداوار
پیٹریاٹ دفاعی نظام تیار کرنے والی کمپنی ریتھیون جبکہ انٹرسیپٹر میزائل بنانے والی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے پیداوار بڑھانے کے منصوبے شروع کیے ہیں۔ کمپنی کے مطابق سالانہ پیداوار کو موجودہ 600 میزائل سے بڑھا کر 2030 تک تقریباً 2000 میزائل سالانہ تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
واشنگٹن میں کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے محقق مائیکل کوف مین کا کہنا ہے کہ موجودہ جنگی صورتحال اور بڑھتی ہوئی کھپت کے پیش نظر پیٹریاٹ میزائلوں کی موجودہ پیداواری رفتار یوکرین کی فضائی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر ایران کے خلاف جنگ طویل ہو گئی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ یورپ اور عالمی سکیورٹی توازن پر بھی گہرے پڑ سکتے ہیں۔
