امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران اپنے قریبی اتحادی اسرائیل کو بھاری ہتھیار فراہم کرنے کا اہم فیصلہ کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اسرائیل کو تقریباً 151 ملین ڈالر مالیت کے بم فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ اسرائیل نے 12 ہزار بم باڈیز خریدنے کی درخواست کی تھی جن میں ایک ہزار پاؤنڈ وزنی بم شامل ہیں۔ اس معاہدے کے تحت اسرائیل کو نہ صرف دفاعی ساز و سامان فراہم کیا جائے گا بلکہ اس کے ساتھ انجینئرنگ سپورٹ، تکنیکی معاونت، لاجسٹکس اور پروگرام سپورٹ بھی شامل ہوگی۔
امریکی حکام کے مطابق اس دفاعی پیکیج کا مقصد اسرائیل کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا اور اسے موجودہ و مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے قابل بنانا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے بتایا کہ اس فروخت کے معاملے میں امریکی کانگریس کے روایتی جائزے کی شرط کو معاف کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ آرم ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ کے سیکشن 36 بی کے تحت کیا گیا، جس کے تحت قومی سلامتی کے مفاد میں ہتھیاروں کی فوری فروخت کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کو دفاعی سامان اور خدمات کی فوری فراہمی امریکہ کے قومی سلامتی مفادات کے عین مطابق ہےامریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مجوزہ فروخت سے خطے میں ایک اہم اسٹریٹجک اتحادی کی سلامتی مزید بہتر ہوگی۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے اسرائیل کی دفاعی تیاریوں میں اضافہ ہوگا اور وہ علاقائی خطرات کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کر سکے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں پہلے ہی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی اس بڑی فروخت سے خطے کی سکیورٹی صورتحال اور سفارتی توازن پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
