پاکستان کے سفارت خانے نے کابل میں گردش کرنے والی ان خبروں کی واضح تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ افغان شہری پاکستان کا ویزا حاصل کرنے کے لیے بلیک مارکیٹ میں بھاری رقوم ادا کر رہے ہیں اور یہ عمل کسی نہ کسی شکل میں سفارت خانے سے منسلک ہے۔ سفارت خانے کے حکام نے کہا ہے کہ ویزا کے حصول کے لیے جو بھی اضافی رقم غیر قانونی طور پر لی جا رہی ہے اس کا پاکستانی سفارتی مشن سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی سفارت خانے کا کوئی اہلکار اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔
سفارت خانے کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستانی ویزا کے حصول کے لیے ایک واضح اور شفاف طریقہ کار موجود ہے۔ حکام کے مطابق ویزا فیس اور درخواست کے مراحل سرکاری سطح پر پہلے سے طے شدہ ہیں اور درخواست گزاروں کو صرف مقررہ فیس ہی ادا کرنی چاہیے۔ بیان میں افغان شہریوں کو یہ بھی مشورہ دیا گیا کہ وہ کسی بھی شخص یا ایجنٹ کو اضافی رقم دینے سے گریز کریں کیونکہ ایسا کرنا غیر قانونی ہے اور اس سے فائدہ صرف غیر رسمی نیٹ ورکس کو ہوتا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت زیر بحث آیا جب کچھ بین الاقوامی اور عرب میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا کہ بعض افغان شہری پاکستان پہنچنے کے لیے ٹریول ایجنٹس کے ذریعے ویزا حاصل کر رہے ہیں اور اس کے بدلے میں بڑی رقوم ادا کر رہے ہیں۔ ان رپورٹس میں کہا گیا کہ بلیک مارکیٹ میں ایک پاکستانی ویزا کے لیے تقریباً 1800 ڈالر تک لیے جا رہے ہیں، جو سرکاری فیس کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔
پاکستانی سفارت خانے نے ان رپورٹس کے بعد وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ کابل میں کام کرنے والے کسی بھی نجی ویزا ایجنٹ یا ٹریول ایجنسی کی جانب سے وصول کی جانے والی رقم سفارت خانے کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ حکام کے مطابق ایسے افراد اگر ویزا کے نام پر لوگوں سے زیادہ پیسے وصول کر رہے ہیں تو وہ ذاتی طور پر یہ کام کر رہے ہیں اور اس کا سفارتی عملے سے کوئی تعلق نہیں۔
بیان میں اس بات کو بھی واضح کیا گیا کہ پاکستانی ویزا کی اصل فیس تقریباً 25 ڈالر ہے اور یہ فیس ڈیجیٹل طریقے سے ادا کی جاتی ہے۔ حکام کے مطابق ویزا کے لیے درخواست دینے والے افراد کو صرف سرکاری ویب سائٹ اور منظور شدہ نظام کے ذریعے ہی درخواست دینی چاہیے تاکہ کسی قسم کی دھوکہ دہی سے بچا جا سکے۔
پاکستان کے پریس قونصلر سید حضر علی نے اس حوالے سے کہا کہ افغان شہریوں کے لیے ویزا کے حصول کا عمل آسان اور شفاف ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان کے شہریوں کو ایک منظم اور واضح طریقہ کار کے ذریعے ویزا ملے تاکہ غیر قانونی ذرائع کی حوصلہ شکنی ہو۔ ان کے مطابق کابل اور ننگرہار میں پاکستانی مشنز اس مقصد کے لیے بہتر نظام فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
دوسری طرف بعض ٹریول ایجنسیوں کے نمائندوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مختلف دعوے کیے ہیں۔ ایک ٹریول ایجنسی کے مینیجر نے بتایا کہ بہت سے لوگ ویزا کے حصول کے لیے ایجنٹس کا سہارا لیتے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اس طریقے سے درخواست جلدی پراسس ہو جاتی ہے۔ اس کے مطابق ان کی ایجنسی گزشتہ سال اکتوبر سے لے کر اب تک روزانہ درجنوں درخواستوں پر کام کر رہی ہے اور لوگوں کی بڑی تعداد پاکستان جانے کے لیے بے تاب ہے۔
اس مینیجر کا کہنا تھا کہ اگر لوگ روایتی یا سرکاری طریقے سے درخواست دیں تو اکثر انہیں طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے بعض افراد جلدی ویزا حاصل کرنے کے لیے اضافی فیس ادا کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ اس نے دعویٰ کیا کہ کئی مرتبہ ایجنٹس کے ذریعے جمع کرائی گئی درخواستیں زیادہ تیزی سے پراسس ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے لوگوں میں یہ تاثر پیدا ہو گیا ہے کہ اضافی رقم ادا کرنا ضروری ہے۔
بعض ویزا ایجنٹس نے بھی غیر رسمی گفتگو میں اس بات کا اعتراف کیا کہ بلیک مارکیٹ میں پاکستانی ویزا کی مانگ موجود ہے۔ ان کے مطابق افغانستان کے مختلف علاقوں سے لوگ پاکستان جانے کے خواہش مند ہیں اور وہ اس مقصد کے لیے مختلف راستے اختیار کرتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے کسی سرکاری ادارے نے باضابطہ طور پر ایسے دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔
افغان شہریوں میں پاکستان جانے کی خواہش کے پیچھے مختلف وجوہات بتائی جاتی ہیں۔ کچھ افراد کاروبار، تعلیم یا علاج کے لیے پاکستان جانا چاہتے ہیں جبکہ کچھ لوگ خطے میں جاری کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کے باعث پاکستان کو ایک نسبتاً محفوظ منزل سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ویزا کے حصول کے لیے درخواستوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
ایک افغان خاتون عاصمہ نے بتایا کہ اس نے چار ماہ قبل آن لائن ویزا کے لیے درخواست جمع کروائی تھی لیکن ابھی تک اسے کوئی جواب نہیں ملا۔ اس کے مطابق اس نے سرکاری ویب سائٹ کے ذریعے مکمل عمل پورا کیا مگر درخواست کے بارے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ عاصمہ کا کہنا تھا کہ اس طویل انتظار کی وجہ سے کئی لوگ ایجنٹس کا سہارا لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
اس صورتحال پر افغانستان کی وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ سے بھی مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی، تاہم سرکاری سطح پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ دونوں وزارتوں کی جانب سے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ویزا کے حوالے سے پیدا ہونے والی یہ صورتحال دراصل دو مختلف مسائل کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک طرف افغان شہریوں کی بڑی تعداد پاکستان جانے کی خواہش رکھتی ہے، جبکہ دوسری طرف ویزا کے حصول کے عمل میں تاخیر یا پیچیدگی کی شکایات بھی سامنے آتی ہیں۔ ایسے حالات میں بعض غیر رسمی نیٹ ورکس اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور لوگوں سے اضافی رقم وصول کرنے لگتے ہیں۔
پاکستانی سفارت خانے نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ درخواست گزار صرف سرکاری ذرائع استعمال کریں اور کسی بھی مشکوک پیشکش سے محتاط رہیں۔ حکام کے مطابق اگر کوئی شخص یا ایجنٹ ویزا کے بدلے غیر معمولی رقم طلب کرتا ہے تو اس کی اطلاع متعلقہ حکام کو دی جانی چاہیے۔
سفارتی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان کے شہریوں کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے اور ویزا کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ان کے مطابق مقصد یہ ہے کہ درخواست گزاروں کو ایک ایسا طریقہ کار فراہم کیا جائے جو شفاف، منصفانہ اور قابلِ اعتماد ہو تاکہ کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا غیر قانونی سرگرمی کی گنجائش باقی نہ رہے۔
موجودہ صورتحال نے اس بات کو بھی اجاگر کیا ہے کہ ویزا کے معاملات میں شفافیت اور معلومات کی فراہمی کتنی اہم ہے۔ اگر درخواست گزاروں کو درست معلومات اور واضح طریقہ کار دستیاب ہو تو بلیک مارکیٹ یا غیر قانونی ذرائع کے امکانات خود بخود کم ہو سکتے ہیں۔
فی الحال پاکستانی سفارت خانے کا مؤقف واضح ہے کہ ویزا کے حصول کے لیے مقررہ فیس اور سرکاری نظام ہی قابلِ قبول ہے۔ حکام کے مطابق اضافی فیسیں وصول کرنے والے افراد یا ادارے سفارت خانے سے وابستہ نہیں اور درخواست گزاروں کو چاہیے کہ وہ ایسے کسی بھی عمل سے دور رہیں۔
