اسلام آباد میں پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں چین کی معروف کمپنی ایروسپیش ڈیولپمنٹ انڈسٹری انویسٹمنٹ گروپ نے پاکستان میں 5 سے 10 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کرنے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔
اس حوالے سے چینی وفد نے وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصراحمد شیخ سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے نئے مواقع اور باہمی اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران چینی وفد نے پاکستان میں معدنیات، جدید ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار کیا۔ وفد کا کہنا تھا کہ پاکستان میں قدرتی وسائل، افرادی قوت اور جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے اس موقع پر کہا کہ حکومت پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کے لیے ریگولیٹری اصلاحات متعارف کرا رہی ہے تاکہ کاروبار کرنے کے عمل کو آسان بنایا جا سکے
انہوں نے بتایا کہ سرمایہ کاروں کو خصوصی اقتصادی زونز میں متعدد مراعات فراہم کی جا رہی ہیں، جن میں ٹیکس میں رعایتیں اور کاروباری سہولتیں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت غیر ملکی کمپنیوں کو جدید صنعتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
قیصر احمد شیخ نے مزید بتایا کہ حکومت نے سرمایہ کاروں کے لیے مشینری کی درآمد پر سیلز ٹیکس سے استثنیٰ جیسی سہولیات بھی فراہم کی ہیں تاکہ صنعتی ترقی کو فروغ دیا جا سکے اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ سرمایہ کاری عملی شکل اختیار کر لیتی ہے تو اس سے پاکستان میں صنعتی ترقی، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کو بھی مزید تقویت ملے گی۔
