منامہ: بحرین کی وزارتِ داخلہ نے ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے ایسے گروہ کا پردہ فاش کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ رابطے میں تھا اور ملک کے حساس مقامات کی معلومات خفیہ طور پر جمع کر کے بیرونِ ملک منتقل کر رہا تھا۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق جنرل ڈائریکٹوریٹ برائے تحقیقات و فوجداری شواہد نے کارروائی کرتے ہوئے چار بحرینی شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ اس گروہ کا ایک اہم رکن فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ہے جس کی تلاش جاری ہے۔
حکام کے مطابق گرفتار افراد میں مرتضیٰ حسین اوال (25 سال)، احمد عیسیٰ الحایکی (34 سال)، سارہ عبدالنبی مرہون (36 سال) اور الیاس سلمان مرزا (22 سال) شامل ہیں، جبکہ علی محمد حسن الشیخ (25 سال) مفرور قرار دیا گیا ہے۔
وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ گرفتار ہونے والا پہلا ملزم تنظیمی ہدایات کے تحت کام کر رہا تھا اور دیگر افراد کی مدد سے بحرین کے اہم اور حساس مقامات کی تصاویر اور جغرافیائی معلومات (کوآرڈینیٹس) جمع کر رہا تھا۔
حکام کے مطابق اس مقصد کے لیے جدید اور اعلیٰ معیار کے کیمروں کا استعمال کیا گیا، جبکہ حاصل کی گئی معلومات کو خفیہ ڈیجیٹل پروگرامز کے ذریعے ایران میں موجود پاسدارانِ انقلاب کے مبینہ دہشت گرد عناصر تک پہنچایا جاتا تھا۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ملزمان نہ صرف تصاویر بلکہ مختلف مقامات کے درست جغرافیائی نقاط بھی فراہم کرتے تھے تاکہ ان مقامات کی درست شناخت اور نشاندہی ممکن ہو سکے۔
بحرین کی وزارتِ داخلہ نے بتایا کہ قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد گرفتار افراد کو مزید تفتیش اور عدالتی کارروائی کے لیے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے، جبکہ مفرور ملزم کی گرفتاری کے لیے سیکیورٹی ادارے متحرک ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی قومی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی ادارے پوری طرح چوکس ہیں اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں
Add A Comment