امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے افزودہ یورینیم کو روس منتقل کرنے کی پیشکش مسترد کر دی ہے، جو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کے ممکنہ معاہدے کے حصے کے طور پر سامنے آئی تھی۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیوٹن نے یہ تجویز رواں ہفتے ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی ایک ٹیلی فون گفتگو کے دوران پیش کی تھی۔ اس منصوبے کے تحت ایران کا افزودہ یورینیم روس منتقل کیا جانا تھا تاکہ خطے میں کشیدگی کم ہو اور جاری تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی راستہ ہموار کیا جا سکے، تاہم واشنگٹن نے اس تجویز کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
دوسری جانب امریکی اخبار The Wall Street Journal نے رپورٹ کیا ہے کہ United States Department of Defense نے مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر ہزاروں امریکی میرینز کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد خطے میں امریکی مفادات اور سمندری راستوں کے تحفظ کو یقینی بنانا بتایا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران پر الزام ہے کہ وہ خلیج کے اہم بحری راستے آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں اور بارودی سرنگیں بچھانے جیسے اقدامات کر رہا ہے، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے اور عالمی سطح پر توانائی کی منڈیوں، تجارت اور سکیورٹی کے معاملات پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے

یہ بھی پڑھیں
Add A Comment