مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان بیانات کی جنگ میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی نائب صدر جےڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای ایک امریکی کارروائی کے دوران زخمی ہو گئے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران جب نائب صدر سے سوال کیا گیا کہ آیا مجتبیٰ خامنہ ای واقعی زخمی ہیں، تو انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام کے پاس ایسی معلومات موجود ہیں جن کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر اس کارروائی میں زخمی ہوئے ہیں۔
اس معاملے پر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے چہرے پر زخم آئے ہیں اور اسی وجہ سے وہ حالیہ دنوں میں عوام کے سامنے نہیں آئے۔ امریکی حکام کے بیانات نے اس معاملے کو مزید سنجیدہ اور توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
دوسری جانب ایران کی طرف سے اس دعوے کی جزوی تردید سامنے آئی ہے۔ ایک ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ایک واقعے میں معمولی چوٹیں آئی تھیں، تاہم ان کی حالت تشویشناک نہیں اور وہ بدستور اپنے ریاستی اور مذہبی فرائض انجام دے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ دونوں جانب سے مختلف دعوے سامنے آ رہے ہیں، تاہم اس معاملے کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق ابھی تک نہیں ہو سکی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی اور اطلاعاتی جنگ کے ماحول میں ایسے بیانات سیاسی اور سفارتی دباؤ کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر عالمی برادری اس پیش رفت کو انتہائی اہم قرار دے رہی ہے، کیونکہ ایران کی قیادت سے متعلق کسی بھی خبر کے خطے کی سیاست اور سلامتی پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
