پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں چین نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی کوششیں تیز کر دی ہیں اور خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
بیجنگ سے جاری بیان کے مطابق چین نے واضح کیا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا میں کسی بھی قسم کی کشیدگی کو کم کرنے اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کو ہی واحد راستہ سمجھتا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق گزشتہ ہفتے چین کے وزیر خارجہ Wang Yi نے پاکستان اور افغانستان کے وزرائے خارجہ سے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفونک رابطہ کیا اور دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔
ترجمان کے مطابق چین کے خصوصی ایلچی برائے افغان امور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے سرگرم ہیں اور اس مقصد کے لیے اسلام آباد اور کابل کے درمیان شٹل ڈپلومیسی جاری ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ اس کے سفارتی مشنز دونوں ممالک کے حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ کسی بھی غلط فہمی یا کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔
چینی وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں خطے کے اہم ممالک ہیں اور ان کے درمیان امن و استحکام نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کی سلامتی اور معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ ترجمان کے مطابق چین کو امید ہے کہ دونوں فریق جلد از جلد آمنے سامنے مذاکرات شروع کریں گے اور اختلافات کو طاقت کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کریں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ چین ہر اس اقدام کی حمایت کرتا ہے جو خطے میں امن، استحکام اور باہمی اعتماد کو فروغ دے۔ چین نے پاکستان اور افغانستان سے اپیل کی کہ وہ فوری جنگ بندی کی جانب بڑھیں اور ایسے اقدامات کریں جو کشیدگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں۔
چینی ترجمان نے مزید کہا کہ بیجنگ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان مفاہمت کو فروغ دینے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا اور امید ہے کہ مذاکرات اور تعاون کے ذریعے خطے میں دیرپا امن کی راہ ہموار ہوگی۔
