ایران میں اعلیٰ عسکری سطح پر ایک اہم تقرری سامنے آئی ہے جس کے تحت پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر محسن رضائی کو ایرانی سپریم لیڈر کا فوجی مشیر مقرر کر دیا گیا ہے۔ اس تقرری کو ایران کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر Mojtaba Khamenei نے Mohsen Rezaee کو اپنا فوجی مشیر مقرر کیا ہے۔
محسن رضائی ایران کی عسکری اور سیاسی قیادت میں ایک اہم شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ وہ ماضی میں پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر کے طور پر تقریباً سولہ سال تک خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کی قیادت میں پاسدارانِ انقلاب کو ایک منظم اور طاقتور فوجی فورس بنانے میں اہم پیش رفت ہوئی اور اسے ایران کی دفاعی حکمت عملی میں مرکزی حیثیت حاصل ہوئی۔
اس کے علاوہ محسن رضائی نے سیکرڈ ڈیفنس کے کمانڈر کے طور پر بھی اہم کردار ادا کیا، جہاں انہوں نے ایران کی دفاعی پالیسیوں اور عسکری تیاریوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اس موقع پر کہا کہ ان کے شہید والد کی جانب سے منتخب کیے گئے عہدیدار اپنی ذمہ داریوں پر بدستور برقرار رہیں گے۔
انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں اسی پالیسی اور رہنمائی کے مطابق جاری رکھیں جو ان کے والد کی زندگی میں طے کی گئی تھیں، تاکہ ریاستی اداروں کے تسلسل اور پالیسیوں کی سمت برقرار رکھی جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں محسن رضائی کی بطور فوجی مشیر تقرری ایران کی دفاعی حکمت عملی کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش سمجھی جا رہی ہے
