واشنگٹن:امریکا کی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلیجنس تلسی گبارڈ نے کہا ہے کہ پاکستان کے میزائل پروگرام میں ممکنہ طور پر ایسے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار شامل ہو سکتے ہیں جو امریکا تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں، جس کے بعد عالمی سکیورٹی صورتحال پر نئی تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
یہ بیان امریکی سینیٹ کی ایک اہم کمیٹی میں دی گئی بریفنگ کے دوران سامنے آیا، جہاں دنیا بھر میں ابھرتے ہوئے دفاعی خطرات اور اسٹریٹیجک ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر تفصیلی غور کیا گیا۔تلسی گبارڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کے میزائل پروگرام میں ممکنہ طور پر بین البراعظمی بیلسٹک میزائل شامل ہو سکتے ہیں، جو ہزاروں کلومیٹر دور تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ میزائل جوہری اور روایتی دونوں طرح کے ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے ساتھ ساتھ روس، چین، شمالی کوریا اور ایران بھی جدید میزائل ٹیکنالوجی پر تیزی سے کام کر رہے ہیں، جو مستقبل میں امریکا کیلئے سکیورٹی چیلنجز میں اضافہ کر سکتے ہیں۔امریکی انٹیلیجنس سربراہ کے مطابق، ان ممالک کی جانب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل سسٹمز کی ترقی عالمی توازنِ طاقت کو متاثر کر سکتی ہے اور اس کے نتیجے میں دفاعی حکمت عملیوں میں تبدیلی ناگزیر ہو سکتی ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کسی بھی ملک کی اسٹریٹیجک طاقت میں نمایاں اضافہ کرتے ہیں، کیونکہ یہ انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ براعظموں کے درمیان فاصلے طے کر کے اپنے اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں، جبکہ ان کا دفاع کرنا بھی ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق، اس قسم کے بیانات نہ صرف عالمی سطح پر سکیورٹی خدشات کو بڑھاتے ہیں بلکہ مختلف ممالک کے درمیان کشیدگی اور اسلحہ کی دوڑ میں بھی اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان اور دیگر متعلقہ ممالک اس بیان پر کیا ردعمل دیتے ہیں اور آیا یہ معاملہ عالمی سطح پر کسی نئی سفارتی پیش رفت کا سبب بنتا ہے یا نہیں۔
