یروشلم سے سامنے آنے والی ایک اہم اور متنازع پیش رفت میں اسرائیلی حکومت کے ایک سینئر وزیر نے ایران کے خلاف جاری جنگ کو اسرائیل کے لیے “بڑی نعمت” قرار دے دیا ہے، جس نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی وزیر زیو ایلکن، جو وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی دائیں بازو کی جماعت لیکود پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں، نے ایک ریڈیو انٹرویو میں انتہائی سخت مؤقف اختیار کیا۔انہوں نے کہا کہ بحث اس بات پر نہیں ہونی چاہیے کہ جنگ کب ختم ہوگی، بلکہ اصل توجہ اس پر ہونی چاہیے کہ ایران کو پہنچنے والے نقصان کو کیسے مزید طویل اور گہرا کیا جائے۔ ان کے مطابق،مہم کا ہر دن ریاستِ اسرائیل کے لیے ایک بڑی نعمت ہے
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائیاں جاری ہیں، جن کا آغاز 28 فروری کو ہوا تھا۔ اس کے بعد یہ تنازع ایک وسیع جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ میں محسوس کیے جا رہے ہیں،زیو ایلکن اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ کے بھی رکن ہیں، جو بڑے پیمانے پر فوجی آپریشنز کی منظوری دیتی ہے، اس لیے ان کا بیان حکومتی سوچ کی عکاسی سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب پیٹ ہیگستھ نے بھی واضح کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی مخصوص ٹائم فریم موجود نہیں۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے اختتام کا فیصلہ بالآخر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے، جب انہیں محسوس ہوگا کہ امریکی مقاصد حاصل ہو چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اسرائیلی وزیر کا یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسرائیل طویل المدتی حکمت عملی کے تحت ایران کو کمزور کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جبکہ امریکا کی جانب سے غیر معینہ مدت تک جاری رہنے والی جنگ کا عندیہ خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔مشرق وسطیٰ پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہے، اور ایسے بیانات نہ صرف سفارتی حل کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں بلکہ ایک وسیع علاقائی تصادم کے خدشات کو بھی بڑھا رہے ہیں
