ملتان میں سوشل میڈیا سے جڑی ایک اہم خبر سامنے آئی ہے، جہاں معروف ٹک ٹاکر حکیم شہزاد کے خلاف خاتون کو ہراساں کرنے، دھوکہ دہی اور بلیک میلنگ کے الزامات پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ مقدمہ تھانہ راجارام میں متاثرہ خاتون کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کے متن میں خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ بے اولاد ہیں اور ملزم نے انہیں علاج کے نام پر جھانسہ دیا۔خاتون کے مطابق، حکیم شہزاد نے دوائی اور علاج کا یقین دلا کر ان سے تقریباً 3 لاکھ 70 ہزار روپے وصول کیے۔ تاہم بعد میں نہ تو کوئی مؤثر علاج فراہم کیا گیا اور نہ ہی وعدے پورے کیے گئے۔
ایف آئی آر میں مزید انکشاف کیا گیا کہ ملزم نے مبینہ طور پر جعلی ویڈیوز بنا کر خاتون کو بلیک میل کرنا شروع کر دیا، جس کے بعد متاثرہ خاتون نے قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
قانونی ماہرین کے مطابق، اس نوعیت کے کیسز سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور اس کے غلط استعمال کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں بعض افراد شہرت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شہریوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ واقعہ اس بات کی بھی یاد دہانی ہے کہ شہری آن لائن یا سوشل میڈیا پر کسی بھی قسم کے طبی یا مالی دعوؤں پر اندھا اعتماد کرنے کے بجائے احتیاط سے کام لیں اور مستند ذرائع سے تصدیق ضرور کریں
