سابق سربراہ سی آئی اے، لیون پینیٹا نے ایک متنازعہ بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قائل کیا تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو شہید کرنے سے ایران کی حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے گا اور وہاں "رجیم چینج” ہو جائے گا۔ پینیٹا کے مطابق، اسرائیل نے ٹرمپ کو اس بات پر یقین دلایا تھا کہ خامنہ ای کی شہادت سے ایران کی حکومت کمزور ہو جائے گی اور اس کے نتیجے میں ایران میں سیاسی تبدیلیاں آ جائیں گی۔
لیون پینیٹا نے اس بیان میں مزید کہا کہ اسرائیل اور امریکہ دونوں نے اس معاملے میں "احمقانہ” انداز میں غلط حساب کتاب کیا اور ان کے اندازے بالکل غلط ثابت ہوئے۔ پینیٹا کے مطابق، اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے خامنہ ای کے قتل کو ایک آسان حل سمجھنا ایک سنگین غلط فہمی تھی، کیونکہ اس اقدام کا ایران پر برے اثرات کے بجائے مزاحمت میں اضافہ اور مزید کشیدگی کی صورت میں اثرات مرتب ہوئے۔
اس بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حکام نے ایران کے خلاف سخت موقف اپنانے میں بعض حکومتی فیصلوں پر سوچ سمجھ کر عمل نہیں کیا تھا، جو کہ بعد میں خطے میں مزید مسائل اور تناؤ کا باعث بنے۔ پینیٹا نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کی عسکری حکمت عملی سے معاملات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں اور اس کے نتائج بہت پیچیدہ اور طویل المدتی ہو سکتے ہیں۔
اس بات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ نے اس حملے کو ایک کامیاب حکمت عملی کے طور پر پیش کیا تھا، لیکن پینیٹا نے اس بات کا انکشاف کیا کہ دونوں ممالک کے حکام نے اس اقدام کے نتائج کو نظرانداز کیا، جو کہ اس وقت کی عالمی سیاست میں مزید شدت لے آیا۔
