ایران کی فوج نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے اور کہا ہے کہ امریکہ اپنی ناکامی کو کسی معاہدے کا نام نہ دے۔ ایرانی حکام نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کا امکان نہیں ہے۔
ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹرز کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ میں داخلی تنازعات اتنے بڑھ چکے ہیں کہ وہ اب خود سے ہی مذاکرات کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کی یہ کوشش حقیقت میں اپنی ناکامی کو چھپانے اور اسے ایک معاہدے کا نام دینے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان نے عالمی نظام اور تیل کی قیمتوں کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب ایران کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں، جس سے خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کا واضح اشارہ ملتا ہے۔
اس بیان میں امریکی قیادت کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا گیا کہ "ہمارے جیسے لوگ کبھی آپ جیسے لوگوں کے ساتھ نہیں رہیں گے”، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو اجاگر کرتا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت حالات اس قدر سنگین ہیں کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے کا کوئی موقع نہیں مل سکتا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کی جانب سے یہ سخت موقف ظاہر کرتا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات میں کسی قسم کی لچک دکھانے کو تیار نہیں ہے۔ حالیہ بیانات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ایران کی قیادت کی نظر میں امریکہ کی پالیسیوں میں ناکامی اور داخلی مسائل کے باوجود ایران کو کسی بھی طرح کے مذاکرات میں شریک کرنا ممکن نہیں۔ اس کے نتیجے میں یہ بات کی جا سکتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید کشیدگی آ سکتی ہے، جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
