ایران میں جاری کشیدگی اور حملوں کے بعد بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں مقیم مسلمانوں نے ایک زبردست انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایرانی عوام کے لیے امدادی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس دور دراز خطے میں رہنے والے لوگ نہ صرف نقد رقم بلکہ سونا، چاندی، زیورات، برتن اور مویشی بھی عطیہ کر رہے ہیں، تاکہ ایران کے متاثرہ عوام کی فوری مدد کی جا سکے۔
کمیونٹی رہنماؤں اور بزرگوں نے ایسے مقامات پر اسٹالز لگائے ہیں جہاں مسلمانوں کی اکثریت موجود ہے، تاکہ عطیات جمع کرنا آسان ہو سکے۔ نوجوان رضاکار گھروں سے گھروں تک جا کر چندہ اکٹھا کر رہے ہیں، اور ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ خطے میں انسانی ہمدردی کو اجاگر کیا جا سکے۔ خواتین نے خاص طور پر اپنے طلائی زیورات، چوڑیاں اور بالیاں عطیہ کی ہیں، جبکہ کئی خاندانوں نے اپنے مویشی یا تانبے کے روایتی برتن بھی دیے ہیں۔ بچے بھی اپنی بچت اور فصلوں میں جمع کردہ رقوم کو امدادی مراکز پر لے کر آ رہے ہیں۔
امیر طبقے کے افراد نے بھی اس عمل میں حصہ لیا ہے اور نئی دہلی میں قائم کیے گئے ایرانی سفارت خانے کے امدادی اکاؤنٹ میں نقدی بھیج رہے ہیں۔ یہ اکاؤنٹ اس ماہ کے آغاز میں متاثرہ ایرانی عوام کی مدد کے لیے مخصوص کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد مقامی طور پر جمع کی جانے والی امداد کو سرکاری اور محفوظ طریقے سے ایران تک پہنچانا ہے۔
ایک نوجوان لڑکی، شازیہ بتول، نے بتایا کہ "میری ہمدردیاں ایران کے ساتھ ہیں اور میں اپنی طلائی بالیوں کا ایک جوڑا عطیہ کر رہی ہوں۔ ہمارے پاس جو کچھ ہے، ہم وہی پیش کر سکتے ہیں۔” اس کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نوجوان نسل بھی انسانی ہمدردی اور مذہبی فریضے کو ترجیح دے رہی ہے، چاہے ان کے پاس وسائل محدود ہی کیوں نہ ہوں۔
عید الفطر کے موقع پر عطیات میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ایک رضاکار، مقصود علی، نے کہا کہ کئی افراد نے اپنی چھٹی کو صرف دعوتوں اور خاندانی اجتماعات میں گزارنے کے بجائے "کارِ خیر” میں بدل دیا۔ اس دن کشمیری کمیونٹی نے ایران کے متاثرہ عوام کے لیے عطیات دینے میں بھرپور حصہ لیا، اور ہر طبقے کے لوگ اس جذبے میں شامل ہوئے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کشمیری باشندے کس طرح ایران کی مدد کو ایک انسانی اور مذہبی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ ایرانی سفارت خانے نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے کشمیری عوام کی یکجہتی اور تعاون کا شکریہ ادا کیا، اور اس بات پر زور دیا کہ یہ امداد متاثرہ عوام کے لیے حوصلہ افزائی کا سبب ہے۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ حملوں کے بعد کشمیر کے اس حصے میں مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے، خاص طور پر اس علاقے کی شیعہ اقلیتی برادری اور دیگر لوگ جو ایران کے ساتھ دیرینہ ثقافتی اور مذہبی تعلقات رکھتے ہیں۔ ان مظاہروں میں کشمیری عوام نے نہ صرف غصہ ظاہر کیا بلکہ اپنے انسانی ہمدردانہ جذبے کو بھی اجاگر کیا۔
یہ صورتحال اس بات کا مظہر ہے کہ انسانی ہمدردی اور مذہبی تعلقات نہ صرف فاصلے کی قید کو توڑ سکتے ہیں بلکہ ایک پوری کمیونٹی کو متحد بھی کر سکتے ہیں۔ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں رہنے والے لوگ، جو ایران سے ہزاروں کلومیٹر دور ہیں، نے یہ ثابت کیا کہ مشکل حالات میں بھی قربانی اور مدد کا جذبہ زندہ رہتا ہے۔
نوجوان، بزرگ، خواتین اور بچے سب نے اپنے حصے کے مطابق حصہ لیا، اور یہ عمل علاقے میں مثبت توانائی اور مشترکہ شعور کو فروغ دینے کا سبب بنا۔ مقامی رہنماؤں کے مطابق، یہ رضاکارانہ سرگرمی نہ صرف ایران کے متاثرین کے لیے مددگار ثابت ہو گی بلکہ کشمیر کے مسلمانوں میں اجتماعی ذمہ داری اور انسانی ہمدردی کے شعور کو بھی مضبوط کرے گی۔
ایسی سرگرمیوں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیری عوام عالمی مسائل سے کٹے ہوئے نہیں ہیں اور وہ بین الاقوامی بحرانوں میں انسانی ہمدردی کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ برتن، مویشی، زیورات اور نقدی کی شکل میں دی جانے والی امداد ایک چھوٹا سا حصہ ہو سکتی ہے، لیکن یہ جذبہ اور شعور اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کشمیری کمیونٹی اپنے مذہبی اور ثقافتی تعلقات کی بنیاد پر ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
یہ اقدام اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ انسانی ہمدردی، مذہبی جذبات اور کمیونٹی کی یکجہتی کسی بھی خطے یا فاصلہ سے محدود نہیں ہو سکتی۔ ہزاروں کلومیٹر دوری کے باوجود، کشمیری عوام نے ایران کے لیے اپنا دل کھول کر عطیات جمع کیے اور اس انسانی مقصد کے لیے اپنی وسائل کو قربان کیا۔
