مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک سطح پر پہنچ گئی ہے، جہاں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے امریکی جنگی طیاروں کو نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی F/A-18 Hornet جنگی طیاروں کو ایران کی فضائی حدود میں داخل ہونے پر نشانہ بنایا گیا، اور دو طیاروں کو کامیابی سے ہدف بنایا گیا۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔
اس پیش رفت سے قبل ایرانی بحریہ کے کمانڈر شہرام ایرانی نے ایک سخت بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا کے طیارہ بردار بحری بیڑے USS Abraham Lincoln کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جیسے ہی یہ بیڑا ایرانی میزائلوں کی رینج میں آئے گا، اسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں استعمال کرنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا فوری جواب دیا جائے گا۔
ایرانی بحریہ نے مزید دعویٰ کیا کہ ساحل سے داغے گئے کروز میزائلوں کے بعد امریکی بحری بیڑے نے اپنی پوزیشن تبدیل کر لی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایرانی عسکری حکمت عملی مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔
دوسری جانب امریکا کی جانب سے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ خطے میں ایک بڑی عسکری جھڑپ کا پیش خیمہ بن

Add A Comment