عالمی توانائی کے ایک نہایت اہم بحری راستے آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور ممکنہ بندش کے اثرات اب واضح طور پر بھارت میں محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں پیٹرول، ڈیزل اور گیس کی شدید قلت نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ملک کے مختلف حصوں میں پیٹرول پمپس پر غیر معمولی رش دیکھنے میں آ رہا ہے۔ خصوصاً مہاراشٹرا، مدھیہ پردیش، تلنگانہ، آسام اور حیدرآباد جیسے بڑے علاقوں میں شہری لمبی قطاروں میں کھڑے ہو کر ایندھن کے حصول کے لیے گھنٹوں انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔
شہریوں کے مطابق جہاں پہلے چند منٹوں میں پیٹرول دستیاب ہو جاتا تھا، اب وہی عمل آدھے گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت لے رہا ہے۔ کئی پیٹرول پمپس پر سپلائی محدود ہونے کے باعث فی گاڑی ایندھن کی مقدار بھی کم کر دی گئی ہے، جس سے تشویش میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ بیرونی درآمدات سے پورا کرتا ہے، جس میں تقریباً 50 فیصد پیٹرولیم مصنوعات آبنائے ہرمز کے ذریعے آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس اہم گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا کشیدگی فوری طور پر بھارت کی سپلائی چین کو متاثر کرتی ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کی سب سے اہم شاہراہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل دنیا کے مختلف ممالک تک پہنچتا ہے۔ اس راستے میں پیدا ہونے والی کسی بھی رکاوٹ کے اثرات نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوتے ہیں، ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر صورتحال طویل ہوئی توایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے،جبکہ رانسپورٹ اور صنعتوں پر دباؤ بڑھے گااس سےمہنگائی میں مزید اضافہ متوقع ہے،بجلی اور گیس کی فراہمی بھی متاثر ہو سکتی ہے
موجودہ بحران نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ توانائی کے عالمی راستوں پر انحصار کرنے والے ممالک جغرافیائی و سیاسی کشیدگی سے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔ بھارت میں پیدا ہونے والی یہ صورتحال نہ صرف ایک عارضی بحران ہو سکتی ہے بلکہ اگر بروقت متبادل انتظامات نہ کیے گئے تو یہ ایک بڑے معاشی چیلنج میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔
