امریکا میں ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران امریکی رکنِ کانگریس ٹام سوازی نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کو دہشت گردی کے خطرے سے محفوظ بنانے کے لیے پاکستان ایک بڑا اور تنہا بوجھ اٹھا رہا ہے۔
پریس کانفرنس میں ان کے ہمراہ امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ بھی موجود تھے۔ ٹام سوازی نے کہا کہ دہشت گردی اس وقت خطے کا سب سے بڑا چیلنج ہے اور اس کے خلاف پاکستان کی قربانیاں عالمی سطح پر قابلِ قدر ہیں۔
انہوں نے حالیہ امریکا ایران تنازع کے تناظر میں پاکستان کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نہ صرف سفارتی سطح پر فعال ہے بلکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے بھی مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے دو طرفہ تعلقات میں حالیہ عرصے میں نمایاں بہتری آئی ہے، جو مستقبل میں مزید مضبوط شراکت داری کی بنیاد بن سکتی ہے۔
ٹام سوازی نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ امریکا پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کا خواہاں ہے اور دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی شہریوں کو امریکی ویزوں کے حصول میں درپیش مشکلات کو تسلیم کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ان مسائل کے حل کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔
دوسری جانب پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاکستانی عوام آج بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہیں اور اس جنگ کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی نے پاکستان کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث ملک کی معاشی ترقی اور ادارہ جاتی استعداد کو دھچکا پہنچا۔
سفیر پاکستان نے مزید کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان شراکت داری ماضی میں بھی اہم رہی ہے اور اب بھی یہ تعلقات نتیجہ خیز سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کی جانب سے پاکستان پر اعتماد کا اظہار نہ صرف حوصلہ افزا ہے بلکہ ملک کے لیے باعثِ فخر بھی ہے۔
رضوان سعید شیخ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں باوقار اور پائیدار امن کا خواہاں ہے اور اس مقصد کے لیے دوست ممالک کے ساتھ مشاورت اور سہولت کاری کا عمل جاری رکھے گا، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کے مستقل حل کی اصل ذمہ داری متعلقہ فریقین پر عائد ہوتی ہے۔
