مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران پاکستان کا سفارتی کردار ایک بار پھر نمایاں ہو گیا ہے، جہاں امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرقِ وسطیٰ اسٹیو وٹکوف نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے ذریعے ایران سے مضبوط اور مثبت پیغامات موصول ہوئے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسٹیو وٹکوف کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ٹیم کے ساتھ قریبی مشاورت کے بعد 15 نکات پر مشتمل ایک جامع ایکشن لسٹ تیار کی گئی، جو ممکنہ امن معاہدے کے فریم ورک کی بنیاد بن سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس ایکشن پلان کو پاکستان نے ثالث کے طور پر آگے بڑھایا اور اسے ایران تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
امریکی نمائندہ خصوصی کے مطابق یہ مجوزہ 15 نکاتی ایکشن لسٹ بذریعہ پاکستان ایران تک پہنچائی گئی، جس کا مقصد کشیدگی میں کمی لانا اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں خطے میں امن کے قیام کے لیے نہایت اہم ثابت ہو رہی ہیں۔
دوسری جانب عالمی ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں پاکستان کا ثالثی کردار اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان پر اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی اور مختلف فریقین کے ساتھ روابط اسے ایک مؤثر اور قابلِ قبول ثالث بناتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ 15 نکاتی فریم ورک کامیاب ہوتا ہے تو نہ صرف خطے میں امن کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں بلکہ پاکستان کا عالمی سفارتی مقام بھی مزید مستحکم ہوگا، جو مستقبل میں دیگر تنازعات کے حل میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے

Add A Comment