بیجنگ اور اسلام آباد کے درمیان اہم سفارتی رابطے میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور ایران تنازع پر سنجیدہ تبادلہ خیال کیا گیا ہے، جہاں وانگ یی نے واضح کیا کہ ایران سے متعلق جاری جنگ میں امن مذاکرات کا آغاز “آسان عمل نہیں” ہوگا۔ یہ گفتگو اسحاق ڈار سے ٹیلیفونک رابطے کے دوران ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
چینی وزارت خارجہ کے مطابق وانگ یی نے ایران تنازع میں پاکستان کے ممکنہ ثالثی کردار کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں سفارتکاری ہی واحد مؤثر راستہ ہے، تاہم زمینی حقائق کے پیش نظر مذاکرات کا آغاز ایک پیچیدہ اور مرحلہ وار عمل ہوگا۔ انہوں نے اسرائیل، امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔
گفتگو کے دوران خاص طور پر آبنائے ہرمز کی اہمیت پر زور دیا گیا، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس اہم بحری گزرگاہ میں آمدورفت کی بحالی اور تحفظ کے لیے فوری مذاکرات ناگزیر ہیں، کیونکہ کسی بھی رکاوٹ کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جنگ بندی اور امن مذاکرات کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ غیر فوجی اہداف، شہری آبادی اور سمندری راستوں کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ انسانی بحران کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق چین اور پاکستان کے درمیان یہ ہم آہنگی اس بات کی عکاس ہے کہ خطے میں بڑی طاقتیں اب براہ راست تصادم کے بجائے سفارتی حل کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم پیچیدہ علاقائی سیاست اور باہمی عدم اعتماد کے باعث امن کا راستہ اب بھی کٹھن دکھائی دیتا ہے
