پاکستان میں ٹیلی کمیونیکیشن کا شعبہ تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے، جہاں صرف ایک ماہ کے دوران تقریباً 22 لاکھ نئے سیلولر صارفین کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ نہ صرف ملک میں ڈیجیٹل رجحان کے فروغ کو ظاہر کرتا ہے بلکہ عوام کی بڑھتی ہوئی انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی ضرورت کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
Pakistan Telecommunication Authority (پی ٹی اے) کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعدادوشمار کے مطابق، رواں سال جنوری کے اختتام پر پاکستان میں سیلولر صارفین کی مجموعی تعداد 20 کروڑ 25 لاکھ 75 ہزار تھی، جو فروری کے اختتام تک بڑھ کر 20 کروڑ 47 لاکھ 71 ہزار تک جا پہنچی۔ یہ اضافہ ملک میں ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی بہتری اور خدمات کے دائرہ کار میں وسعت کا واضح ثبوت ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق مجموعی ٹیلی ڈینسٹی میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا، جو 82 فیصد سے بڑھ کر 82.57 فیصد تک پہنچ گئی۔ ماہرین کے مطابق یہ شرح اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملک کی ایک بڑی آبادی اب ٹیلی کمیونیکیشن سہولیات تک رسائی حاصل کر چکی ہے۔
مزید برآں، نیکسٹ جنریشن موبائل سروسز (NGMS) یعنی تھری جی اور فور جی کی رسائی میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جنوری میں یہ شرح 61.3 فیصد تھی، جو فروری میں بڑھ کر 62.3 فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں موبائل براڈبینڈ کا استعمال تیزی سے فروغ پا رہا ہے اور صارفین روایتی کالز سے آگے بڑھ کر ڈیجیٹل سروسز کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔
اگر ٹیلی کام کمپنیوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو مارکیٹ میں نمایاں مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ Jazz کے فور جی صارفین میں تقریباً 8 لاکھ کا اضافہ ہوا، جبکہ Zong کے صارفین میں 6 لاکھ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح Telenor Pakistan اور Ufone کے فور جی صارفین کی تعداد میں بھی قابلِ ذکر اضافہ دیکھنے میں آیا، جو مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے مقابلے اور بہتر سروسز کی فراہمی کا نتیجہ ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہی رفتار برقرار رہی تو پاکستان کا ٹیلی کام سیکٹر نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔ بڑھتی ہوئی ڈیجیٹلائزیشن، ای کامرس، آن لائن تعلیم اور فری لانسنگ کے رجحانات اس ترقی کو مزید تقویت دے رہے ہیں۔
مجموعی طور پر، یہ اعدادوشمار اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ پاکستان تیزی سے ایک ڈیجیٹل معیشت کی جانب بڑھ رہا ہے، جہاں کنیکٹیویٹی ترقی کی بنیاد بن چکی ہے
