اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ نے خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں گیس کے ایک بڑے ذخیرے کی دریافت کا اعلان کیا ہے، جسے ملک کے توانائی شعبے میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
کمپنی کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ دریافت تھل بلاک میں واقع بلیٹنگ-1 نامی تلاشِ گیس کنویں سے ہوئی ہے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق اس ذخیرے سے یومیہ تقریباً 2 کروڑ 65 لاکھ معیاری مکعب فٹ گیس حاصل ہونے کی توقع ہے، جو ملکی گیس کی فراہمی میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کو طویل عرصے سے توانائی کے بحران کا سامنا ہے، خصوصاً سردیوں کے موسم میں گیس کی قلت شدت اختیار کر جاتی ہے۔ ایسے میں اس نوعیت کی نئی دریافت نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ صنعتی شعبے کیلئے بھی نہایت اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر گیس کے ذخائر کی دریافت سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا، جس سے قیمتی زرمبادلہ کی بچت ممکن ہو سکے گی۔ مزید برآں، یہ پیش رفت ملک میں توانائی کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری کے مواقع بھی پیدا کرے گی اور تلاش و پیداوار کے منصوبوں کو مزید فروغ ملے گا۔
آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے ترجمان کے مطابق بلیٹنگ-1 کنویں کی کھدائی اور جانچ کے مراحل کامیابی سے مکمل کیے گئے، جس کے بعد گیس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ آئندہ مراحل میں پیداوار بڑھانے اور اس ذخیرے کو قومی نظام میں شامل کرنے کیلئے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
ماہرین کے مطابق خیبر پختونخوا خصوصاً کوہاٹ اور اس کے گرد و نواح کے علاقے تیل و گیس کے حوالے سے اہم حیثیت رکھتے ہیں، جہاں مزید تلاش کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ اس نئی دریافت سے ان علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیوں میں بھی اضافہ متوقع ہے، جس سے مقامی معیشت کو فائدہ پہنچے گا اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
مجموعی طور پر کوہاٹ میں گیس کے اس نئے ذخیرے کی دریافت کو پاکستان کی توانائی خود کفالت کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے، جو نہ صرف توانائی بحران پر قابو پانے میں مدد دے گا بلکہ ملکی معیشت کو بھی استحکام فراہم کرے گا۔
