خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز نے امریکہ کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت اور خطے میں مداخلت کا انجام امریکی فوجیوں کے لیے “ذلت آمیز قید” کی صورت میں نکلے گا۔
ادارے کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ کی کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی خطے میں مزید تباہی کو جنم دے گی اور اس کا نتیجہ امریکی فوج کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوگا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو امریکی فوجی خلیج فارس میں سنگین خطرات سے دوچار ہوں گے، اور ایران اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے بھرپور ردعمل دے گا۔
ایرانی ترجمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات اور پالیسیوں میں تضاد پایا جاتا ہے، جس سے خطے میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکہ کی موجودہ پالیسیوں نے عالمی سطح پر کشیدگی کو بڑھایا ہے اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دیگر خطوں کو بھی متاثر کریں گے۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کے سخت بیانات خطے میں پہلے سے موجود کشیدہ ماحول کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں، جہاں ایک طرف سفارتی کوششیں جاری ہیں تو دوسری جانب فوجی تصادم کا خطرہ بھی برقرار ہے۔
