عالمی سیاست ایک نہایت حساس اور فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکی ہے، جہاں امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی تہلکہ خیز رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے اندر موجود تقریباً ایک ہزار پاؤنڈ یورینیم کو حاصل کرنے کیلئے ممکنہ فوجی آپریشن پر سنجیدہ غور شروع کر دیا ہےایک ایسا قدم جو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے سیکیورٹی توازن کو ہلا کر رکھ سکتا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کوئی معمولی کارروائی نہیں بلکہ ایک انتہائی پیچیدہ، خفیہ اور خطرات سے بھرپور مشن ہوگا، جس کے دوران امریکی اسپیشل فورسز کو کئی دنوں تک ایران کی سرزمین کے اندر رہ کر کام کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے براہِ راست تصادم اور جنگ کے پھیلنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ تاہم تاحال اس منصوبے کی حتمی منظوری نہیں دی گئی اور اسے بطور ایک اسٹریٹیجک آپشن رکھا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے اپنے اعلیٰ مشیروں کو واضح ہدایات دی ہیں کہ ایران پر ہر ممکن سفارتی اور سیاسی دباؤ بڑھایا جائے تاکہ وہ جنگ کے خاتمے کے بدلے اپنا یورینیم امریکہ کے حوالے کرنے پر آمادہ ہو جائے، بصورت دیگر طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ اگر “ٹارگٹڈ آپریشن” کیا جاتا ہے تو یہ ایک محدود دائرہ کار کی کارروائی ہوگی، جس کا مقصد صرف یورینیم پر کنٹرول حاصل کرنا ہوگا اور یہ وسیع جنگ کی مدت کو زیادہ طول نہیں دے گالیکن ماہرین اس تجزیے کو خاصا خطرناک قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے محتاط مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ پینٹاگون کا بنیادی کردار کمانڈر انچیف کیلئے مختلف عسکری آپشنز تیار کرنا ہے، اور اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ فیصلہ ہو چکا ہے، جبکہ سینٹکام سمیت دیگر عسکری اداروں نے اس حساس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہےجو خود اس معاملے کی نزاکت کو ظاہر کرتا ہے۔
تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو امریکہ اس نوعیت کی خفیہ کارروائیوں کا تجربہ رکھتا ہے، جیسا کہ 1994 میں قازقستان اور 1998 میں جارجیا سے یورینیم نکالنے کے کامیاب آپریشنز کیے گئے تھے، تاہم موجودہ صورتحال ان تمام مثالوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہے کیونکہ ایران نہ صرف ایک مضبوط علاقائی طاقت ہے بلکہ کسی بھی فوجی مداخلت کا جواب دینے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ پیش رفت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اگر سفارت کاری ناکام ہوتی ہے تو دنیا ایک نئے اور ممکنہ طور پر وسیع تر تصادم کی جانب بڑھ سکتی ہےجہاں ایک چھوٹا سا فیصلہ بھی عالمی امن، توانائی کی منڈیوں اور جغرافیائی سیاست پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
