ایران سے متعلق جاری کشیدگی کے درمیان واشنگٹن سے آنے والے حالیہ بیانات نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جس میں ممکنہ جنگ کے مالی اخراجات کا معاملہ بھی زیرِ غور آ گیا ہے۔ امریکی حکام کے اشاروں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس حوالے سے ایک غیر روایتی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے، جس کے تحت عرب ممالک کو اس تنازع کے اخراجات میں شریک کرنے کی بات کی جا سکتی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک پریس بریفنگ کے دوران اس خیال کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ڈونلڈ اس امکان میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ عرب ممالک سے کہا جائے کہ وہ ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ کے اخراجات میں حصہ ڈالیں۔ اگرچہ انہوں نے اس تجویز کو کسی حتمی پالیسی کے طور پر پیش نہیں کیا، تاہم ان کے بیانات سے یہ واضح ہوا کہ یہ سوچ اعلیٰ سطح پر زیرِ غور ہے اور مستقبل قریب میں اس حوالے سے مزید بات سامنے آ سکتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ صدر کے باضابطہ اعلان سے پہلے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا مناسب نہیں سمجھتیں، لیکن یہ ضرور کہا کہ یہ ایک ایسا تصور ہے جس پر صدر کی دلچسپی موجود ہے اور اس پر مزید پیش رفت دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
دوسری جانب انہوں نے Iran کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں کے بارے میں بھی بات کی اور بتایا کہ پسِ پردہ مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق ایران کی عوامی سطح پر دی جانے والی بیانات اور بند کمروں میں ہونے والی گفتگو کے درمیان واضح فرق پایا جاتا ہے۔
ترجمان نے یہ بھی انکشاف کیا کہ نجی بات چیت میں ایرانی حکام نے امریکہ کی بعض تجاویز پر آمادگی ظاہر کی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بظاہر سخت مؤقف کے باوجود پسِ پردہ لچک موجود ہے۔ ان کے بقول یہ صورتحال اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ مذاکرات کا دروازہ بند نہیں ہوا بلکہ محتاط انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔
یہ بیانات اس حکمتِ عملی کی عکاسی کرتے ہیں جس میں ایک جانب جنگی اخراجات کو دوسروں کے ساتھ بانٹنے کی سوچ موجود ہے، جبکہ دوسری جانب سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش بھی جاری ہے۔
