چین کی تین بحری جہازوں نے حال ہی میں تنگی ہرمز کے راستے سفر کیا، جس کی تصدیق چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے منگل کے روز روزانہ کی نیوز بریفنگ میں کی۔ ترجمان نے بتایا کہ ان جہازوں کی نقل و حرکت متعلقہ فریقین کے ساتھ مکمل ہم آہنگی اور رابطے کے بعد عمل میں آئی، اور چین نے خطے میں امن و استحکام قائم رکھنے پر زور دیا۔
چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے صحافیوں کو بتایا کہ تنگی ہرمز اور اس کے ارد گرد کے پانی عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے لیے نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے کہا، "چین فوری جنگ بندی، لڑائی ختم کرنے، اور خلیج میں امن و استحکام کی بحالی کا مطالبہ کرتا ہے۔” ماؤ نے واضح کیا کہ چین عالمی تجارت کی روانی اور توانائی کی سپلائی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔
اگرچہ ترجمان نے تینوں چینی جہازوں کی تفصیلات فراہم نہیں کیں، لیکن مارین ٹریفک جیسی شپ ٹریکنگ ویب سائٹس سے پتا چلتا ہے کہ دو چینی کنٹینر شپیں پیر کے روز تنگی ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہوئیں۔ یہ جہاز جمعہ کے دن واپس مڑنے کے بعد اپنی دوسری کوشش پر بحفاظت خلیج سے باہر نکلے۔ جہاز بندھن کے ساتھ ایک دوسرے کے قریب چلتے ہوئے کھلے سمندر کی جانب روانہ ہوئے، جس سے واضح ہوا کہ یہ نقل و حرکت انتہائی منصوبہ بندی اور احتیاط کے ساتھ کی گئی۔
ڈیٹا تجزیہ کار ریبیکا گرڈیز نے بتایا کہ یہ جہاز خلیج فارس سے روانہ ہونے والے پہلے کنٹینر جہاز ہیں جو موجودہ تنازع شروع ہونے کے بعد نکلے، اس میں ایرانی پرچم والے جہاز شامل نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں جہاز اب خلیج عمان کی جانب بلند رفتار سے رواں دواں ہیں۔
یہ واقعہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں ایران کی جانب سے خلیج میں بحری جہازوں پر حملے اور دھمکیاں دی گئی ہیں، جس کے نتیجے میں سیکڑوں جہاز اور تقریبا 20,000 سمندری عملہ خلیج میں پھنس گیا۔ ان کشیدہ حالات کے باعث سعودی عرب کا خام تیل اور قطر کے مائع قدرتی گیس کے برآمدات تقریباً بند ہو گئی ہیں، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
چینی شپنگ کمپنی COSCO نے پہلے ہی 25 مارچ کو اپنے صارفین کو آگاہ کیا تھا کہ وہ ایشیا سے خلیج تک کنٹینر شپنگ کی بکنگ دوبارہ شروع کر رہی ہے، جس میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، بحرین، قطر، کویت اور عراق شامل ہیں۔ کمپنی نے حالیہ ٹرانزٹ کے بارے میں کوئی اضافی تبصرہ نہیں کیا، لیکن اس کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ وہ خطے میں موجود خطرات کے باوجود نقل و حمل جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
چین نے اس کامیاب ٹرانزٹ پر تشکر کا اظہار کیا اور اس امر پر زور دیا کہ علاقائی اور عالمی فریقین کے ساتھ تعاون کے بغیر یہ ممکن نہ ہوتا۔ یہ نقل و حرکت عملی منصوبہ بندی اور سفارتی مذاکرات کی عکاس ہے، جو ایک انتہائی حساس سمندری راستے میں بلا رکاوٹ تجارتی نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری تھے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ ایران کے ساتھ اور بھارت و پاکستان جیسے ممالک کے ساتھ جہازوں کی حفاظت اور ٹریفک پر بات چیت ہوئی ہے، مگر مجموعی طور پر خلیج میں کمرشل شپنگ محدود رہی ہے۔ زیادہ تر فعال جہاز ایرانی تیل کی برآمدات کے لیے گزر رہے ہیں، اور روزانہ چند دیگر جہاز ہی معمول کے مطابق تنگی ہرمز سے گزر پاتے ہیں۔ چینی جہازوں کا گزرنا ایک نایاب مثال ہے کہ کشیدہ حالات میں بھی بحری نقل و حرکت بحال ہو رہی ہے۔
تنگی ہرمز عالمی توانائی منڈیوں کے لیے انتہائی اہم ہے، کیونکہ دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ خام تیل اس پانی کے راستے سے گزرتا ہے۔ اگر اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہو، تو عالمی تیل کی قیمتوں، توانائی کی سپلائی چین، اور عالمی تجارتی نظام پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اس لیے چینی جہازوں کی کامیاب نقل و حرکت عالمی مارکیٹوں کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔
ماہرین نے کہا کہ چین کی جانب سے جہازوں کے ہم آہنگی کے ساتھ گزرنے اور وزارتِ خارجہ کے بیانات کا مقصد خطے میں استحکام قائم رکھنا اور چین کے عالمی ذمہ دار کردار کو ظاہر کرنا ہے۔ امن اور استحکام پر زور دینے سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ بیجنگ کسی بھی کشیدگی کو بڑھنے نہیں دینا چاہتا اور عالمی توانائی سپلائی کو متاثر ہونے سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔
جہازوں کی نقل و حرکت کی عملی تفصیلات محدود ہیں، مگر معلوم ہوا کہ جہاز تنگی ہرمز سے گزرتے ہوئے ایک دوسرے کے قریب بندھن کے ساتھ رواں دواں تھے اور ان کی نگرانی بین الاقوامی سمندری حکام اور سیٹلائٹ سسٹمز سے کی جا رہی تھی۔ یہ احتیاط اور منصوبہ بندی ظاہر کرتی ہے کہ خلیج میں موجود خطرات کے باوجود نقل و حرکت ممکن بنانے کے لیے ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھایا گیا۔
یہ واقعہ چین کے بحری مفادات کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ چینی جہازوں کا کامیاب سفر نہ صرف تجارتی نقل و حرکت کی حفاظت کرتا ہے بلکہ ایک وسیع تر جغرافیائی سیاسی پیغام بھی دیتا ہے کہ بیجنگ عالمی تجارتی سلامتی اور خطے میں امن قائم رکھنے میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
حالانکہ یہ کامیابی ہوئی، لیکن خلیج کی مجموعی صورتحال اب بھی غیر مستحکم ہے۔ ایران کے حملے اور توانائی برآمدات کی بندش کے باعث زیادہ تر بحری ٹریفک محدود رہی ہے۔ بین الاقوامی ماہرین اور شپنگ کمپنیاں مسلسل حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں، تاکہ کشیدگی میں کمی یا معمول کی بحری نقل و حرکت کے اشارے مل سکیں۔
Business Recorder کی رپورٹ کے مطابق بیجنگ نے اس کامیابی پر تشکر کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ بحری سلامتی کے لیے اجتماعی ذمہ داری ضروری ہے۔ یہ اعلان عملی کامیابی کے ساتھ ساتھ سفارتی کاوشوں کی بھی عکاسی کرتا ہے جو خطے میں جاری کشیدگی کے دوران اہم تھی۔
