حالیہ دنوں میں ملک بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور معاشی دباؤ کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں پنجاب حکومت نے شہریوں اور کسانوں کے لیے بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے تاکہ روزمرہ اخراجات کا بوجھ کم کیا جا سکے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے کیے گئے اعلانات کے مطابق صوبے کے مختلف شہروں میں چلنے والی متعدد پبلک ٹرانسپورٹ سروسز کو مفت کر دیا گیا ہے، جبکہ کاشتکاروں کے لیے ڈیزل پر سبسڈی دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
پنجاب حکومت کے اس اقدام کا بنیادی مقصد عام شہریوں کو سفری اخراجات میں ریلیف فراہم کرنا ہے، کیونکہ حالیہ دنوں میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد لوگوں کے لیے روزانہ سفر کرنا مزید مہنگا ہو گیا تھا۔ وزیراعلیٰ کے اعلان کے بعد اب شہریوں کو مختلف ٹرانسپورٹ سروسز میں سفر کے لیے کرایہ ادا نہیں کرنا پڑے گا۔ اس فیصلے سے خاص طور پر وہ افراد زیادہ فائدہ اٹھائیں گے جو روزانہ ملازمت، تعلیم یا کاروباری مقاصد کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہیں۔
اس ریلیف کے تحت پنجاب کے مختلف شہروں میں چلنے والی اورنج لائن ٹرین، میٹرو بس، اسپیڈو بس اور گرین الیکٹرو بس جیسی سروسز میں مسافروں سے کسی قسم کا کرایہ وصول نہیں کیا جائے گا۔ اس سے نہ صرف شہریوں کے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اگر زیادہ لوگ ذاتی گاڑیوں کے بجائے بسوں اور ٹرینوں کا استعمال کریں گے تو نہ صرف انفرادی اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ ٹریفک کے مسائل اور ایندھن کے استعمال میں بھی کمی ہوگی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت عوام کو مشکل وقت میں اکیلا نہیں چھوڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ غیرمعمولی حالات میں عوام کے لیے ضروری ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں تاکہ ان کے ذاتی اخراجات کم ہوں۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ذاتی گاڑیوں کے بجائے اجتماعی سفری ذرائع اختیار کریں کیونکہ اس سے نہ صرف مالی فائدہ ہوگا بلکہ مجموعی طور پر ملک میں ایندھن کی بچت بھی ممکن ہو سکے گی۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی سطح پر جاری تنازعات اور جنگی صورتحال کے باعث دنیا بھر میں معاشی بحران پیدا ہوا ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت کئی ممالک پر پڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ مہنگائی اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی معاشی حالات کا نتیجہ ہیں۔ تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ جیسے ہی معاشی حالات بہتر ہوں گے، حکومت عوام پر پڑنے والے مالی بوجھ کو مزید کم کرنے کے لیے اضافی اقدامات بھی کرے گی۔
پنجاب حکومت نے صرف شہریوں ہی نہیں بلکہ کسانوں کو بھی ریلیف دینے کے لیے اہم فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ کاشتکاروں کو فی ایکڑ ایک لیٹر ڈیزل پر 100 روپے سبسڈی دی جائے گی۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے زرعی شعبے کو بھی متاثر کیا ہے۔ کسانوں کو فصلوں کی تیاری، آبپاشی، ٹریکٹر چلانے اور دیگر زرعی کاموں کے لیے ڈیزل کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے اس سبسڈی سے انہیں کافی سہولت ملے گی۔
زرعی ماہرین کے مطابق اگر حکومت کی جانب سے کسانوں کو بروقت سبسڈی فراہم کی گئی تو اس سے زرعی پیداوار پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اس وقت کسان پہلے ہی کھاد، بیج، بجلی اور پانی کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے پریشان ہیں، ایسے میں ڈیزل پر سبسڈی ان کے لیے کسی حد تک آسانی پیدا کر سکتی ہے۔
وزیراعلیٰ نے اپنی گفتگو میں وزیراعظم شہباز شریف کے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران عوام کو اربوں روپے کا ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ لوگ بڑھتی ہوئی مہنگائی سے کچھ حد تک محفوظ رہ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے مشکل ترین معاشی حالات کے باوجود عوامی فلاح کے لیے اقدامات کیے ہیں اور حکومت کی کوشش ہے کہ عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔
ادھر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی عوام کو سفری سہولت فراہم کرنے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ مفت کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر اسلام آباد میں چلنے والی تمام پبلک ٹرانسپورٹ ایک ماہ کے لیے بغیر کرائے کے دستیاب ہوگی۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد شہریوں کو فوری ریلیف فراہم کرنا ہے تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کچھ حد تک کم کیا جا سکے۔
محسن نقوی نے کہا کہ اسلام آباد میں مفت پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کے لیے وزارت داخلہ تقریباً 35 کروڑ روپے کے اخراجات برداشت کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اس فیصلے کو عوامی خدمت کے جذبے کے تحت نافذ کر رہی ہے تاکہ شہریوں کو روزانہ سفر کے دوران مالی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
واضح رہے کہ ان اعلانات سے ایک روز قبل وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا تھا۔ سرکاری اعلان کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 24 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا۔ اس اضافے کے بعد عوامی سطح پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا کیونکہ ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔
