پنجاب حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی سے متعلق اہم وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سہولت ہر موٹر سائیکل مالک کو نہیں دی جائے گی، بلکہ اس کے لیے باقاعدہ ضابطہ کار مرتب کیا جا رہا ہے۔
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ ایک سے زائد موٹر سائیکل رکھنے والے افراد اور وہ شہری جن کے پاس کار بھی موجود ہے، انہیں سبسڈی دینے یا نہ دینے کے حوالے سے پالیسی تیار کی جا رہی ہے تاکہ مستحق افراد تک ہی ریلیف پہنچایا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کاشتکاروں کو فیول سبسڈی کسان کارڈ کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔ اس حوالے سے جن کسانوں نے ابھی تک کسان کارڈ نہیں بنوایا، انہیں فوری طور پر رجسٹریشن مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز اشیائے خورونوش کی قیمتوں کے حوالے سے خصوصی طور پر فکرمند ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک سے دالوں کی درآمد میں تاخیر کے باعث عارضی مشکلات کا سامنا ہے، تاہم حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ چنے کی نئی فصل مارکیٹ میں آنے کے بعد اشیائے خورونوش کی صورتحال بہتر ہو جائے گی۔
وزیر اطلاعات نے عوام اور تاجروں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ناجائز منافع خوری سے گریز کیا جائے، بصورت دیگر پیرا فورس سمیت دیگر متعلقہ ادارے سخت کارروائی کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت اور عوام کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ بحران پر قابو پایا جا سکے اور عام شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
